دیباچہ تفسیر القرآن — Page 217
کی مرضی کے بغیر اپنے گھروں میں رکھیں۔جھگڑے اور فساد خدا اور اُس کے رسول کے پاس فیصلہ کے لئے پیش کئے جائیں گے۔مکہ والوں اور اُن کے حلیف قبائل کے ساتھ اِس معاہدہ میں شامل ہونے والے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے، کیونکہ اِس معاہدہ میں شامل ہونے والے مدینہ کے دشمنوں کے خلاف اِس معاہدہ کے ذریعہ سے اتفاق کر چکے ہیں۔جس طرح جنگ علیحدہ نہیں کی جاسکے گی اِسی طرح صلح بھی علیحدہ نہیں کی جا سکے گی۔لیکن کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ لڑائی میں شامل ہو۔ہاں اگر کوئی شخص ظلم کا کوئی فعل کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہو گا۔یقینا خدا نیکوں اور دینداروں کا محافظ ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) خد ا کے رسول ہیں‘‘۔۲۴۶؎ یہ معاہدہ کا خلاصہ ہے۔اِس معاہدہ میں بار بار اِس بات پر زور دیا گیا تھا کہ دیانتداری اور صفائی کوہاتھ سے نہیں چھوڑا جائے گا اور ظالم اپنے ظلم کا خود ذمہ دار ہو گا۔اِس معاہدہ سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ یہودیوں کے ساتھ اور مدینہ کے اُن باشندوں کے ساتھ جو اِسلام میں شامل نہ ہوں محبت، پیار اور ہمدردی کا سلوک کیا جائے گا اور انہیں بھائیوں کی طرح رکھا جائے گا۔پس بعد میں یہود کے ساتھ جس قدر جھگڑے پید اہوئے اُن کی ذمہ داری خالصۃً یہود پر تھی۔اہل مکہ کی طرف سے از سر نو شرارتوں کا آغاز جیساکہ بتایا جاچکا ہے کہ دو تین مہینہ کے بعد مکہ والوں کی پریشانی جب دور ہوئی تو اُنہوںنے پھر سے اِسلام کے خلاف ایک نیا محاذ قائم کیا۔چنانچہ انہی ایام میں مدینہ کے ایک رئیس سعد بن معاذ جو اوس قبیلہ کے سردار تھے بیت اللہ کا طواف کرنے کے لئے مکہ گئے تو ابوجہل نے اُن کو دیکھ کر بڑے غصہ سے کہا کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ اُس مرتد ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو پناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر سکو گے اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم اُس کی حفاظت اور امداد کی طاقت رکھتے ہو۔خدا کی قسم! اگر اِس وقت تیرے ساتھ ابوصفوان نہ ہوتا تو تُو اپنے گھر والوں کے پاس بچ کر نہ جا سکتا۔سعد بن معاذ نے کہا۔وَاللّٰہِ! اگر تم نے ہمیں کعبہ سے روکا تو یاد رکھو پھر تمہیں