دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 196

کا وطن جہنم کا نمونہ بننے لگا۔مگر اِس پر بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دلیری سے لوگوں کو خدا کی تعلیم پہنچاتے رہے۔مکہ کے گلی کوچوں میں ’’ خد ا ایک ہے خدا ایک ہے‘‘کی آوازیں بلند ہوتی رہیں۔محبت سے، پیار سے، خیر خواہی سے، آپ مکہ والوں کو بت پرستی کے خلاف وعظ کرتے رہے۔لوگ بھاگتے تھے تو آپ اُن کے پیچھے جاتے تھے۔لوگ منہ پھیرتے تھے تو آپ پھر بھی باتیں سنائے چلے جاتے تھے۔صداقت آہستہ آہستہ گھر کر رہی تھی۔وہ تھوڑے سے مسلمان جو ہجرتِ حبشہ سے بچے ہوئے مکہ میں رہ گئے تھے وہ اندر ہی اندر اپنے رشتہ داروں، دوستوں، ساتھیوں اور ہمسائیوں میں تبلیغ کر رہے تھے۔بعض کے دل ایمان سے منور ہو جاتے تھے تو عَلَی الْاعْلَان اپنے مذہب کا اظہار کر دیتے تھے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ ماریں کھانے اور تکلیفیں اُٹھانے میں شریک ہو جاتے تھے۔مگر بہت تھے جنہوں نے روشنی کو دیکھ تو لیاتھا مگر اُس کے قبول کر نے کی توفیق نہیں ملی تھی۔وہ اُس دن کا انتظار کر رہے تھے جب خدا کی بادشاہت زمین پر آئے اور وہ اُس میں داخل ہوں۔باشند گانِ مدینہ کا قبولِ اسلام اِسی عرصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بار بار خبر دی جا رہی تھی کہ تمہارے لئے ہجرت کا وقت آرہا ہے اور آپ پر یہ بھی کھل چکا تھا کہ آپ کی ہجرت کا مقام ایک ایسا شہر ہے جس میں کنویں بھی ہیں اور کھجوروں کے باغ بھی پائے جاتے ہیں۔پہلے آپ نے یمامہ کی نسبت خیال کیا کہ شاید وہ ہجرت کا مقام ہو گا۲۲۰؎ مگر جلد ہی یہ خیال آپ کے دل سے نکال دیا گیا اور آپ اِس انتطار میں لگ گئے کہ خد اتعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق جو شہر بھی مقدر ہے وہ اپنے آپ کو اسلام کا گہوارہ بنانے کے لئے پیش کر ے گا۔اِسی دوران میں حج کا زمانہ آگیا عرب کے چاروں طرف سے لوگ مکہ میں حج کے لئے جمع ہونے شروع ہوئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عادت کے مطابق جہاں کچھ آدمیوں کو کھڑا دیکھتے تھے اُن کے پاس جا کر اُنہیں توحید کا وعظ سنانے لگ جاتے تھے اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دیتے تھے اور ظلم اور بدکاری اور فساد اور شرارت سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔بعض لوگ آپ کی بات سنتے اور حیرت کا اظہار کر کے جد ا ہو جاتے۔بعض باتیں سن رہے ہوتے تو مکہ والے آ کر اُن کو وہاں