دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 161

کی محبت میں رخنہ پڑجانے کا احتمال ہمیشہ رہتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تو ایک کھلی کتاب تھی۔دشمن کے اعتراضات حل ہونے کے بعد کوئی ایسا کونہ نہیں رہتا جس پر سے مڑنے کے بعد آپ کی زندگی کے متعلق ایک نیا زاویہ نگاہ ہمارے سامنے آسکتا ہو۔نہ کوئی تہہ ایسی باقی رہتی ہے جس کے کھولنے کے بعد کسی اور قسم کی حقیقت ہم پر ظاہر ہوتی ہو۔یہ امر ظاہر ہے کہ ایسے انسان کی زندگی کے حالات قرآن کریم کے دیباچہ میں ضمنی طور پر مختصراً بھی نہیں بیان کئے جا سکتے۔صرف اُن کی طر ف ایک خفیف سا اشارہ کیا جا سکتا ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ خفیف اشارہ بھی اِس سے بہتر رہے گا کہ میں اس مضمون کو ہی ترک کردوں کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے آسمانی کتب کو صحیح معنوں میں لوگوں کے دماغوں میں راسخ کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اُس کے ساتھ اعلیٰ نمونہ بھی ہو اور سب سے اعلیٰ نمونہ وہی ہو سکتا ہے جس پر وہ کتاب نازل ہوئی ہو۔یہ نقطہ باریک اور فلسفیانہ ہے اور بہت سے مذاہب نے تو اِس کی حقیقت کو سمجھا ہی نہیں۔چنانچہ ہندو مذہب ویدوں کو پیش کرتا ہے مگر ویدوں کے لانے والے رشیوں اور منیوں کی تاریخ کے متعلق بالکل خاموش ہے۔ہندو مذہب کے علماء اِس کی ضرورت کو آج تک بھی نہیں سمجھ سکے۔اِسی طرح عیسائی اور یہودی علماء اورپادری بڑی بیباکی سے کہہ دیتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے فلاں نبی میں فلاں نقص تھا اور فلاں نبی میں فلاں نقص تھا۔وہ یہ بات نہیں سمجھ سکتے کہ جس شخص کو خد اتعالیٰ نے اپنے کلام کے لئے چنا جب وہ کلام اُس کی اصلاح نہیں کر سکا تو کسی دوسرے کی اصلاح کیا کرے گا اور اگر وہ شخص ایسا ہی ناقابل اصلاح تھا تو خد اتعالیٰ نے اُسے چنا کیوں؟ کیا وجہ ہے کہ کسی اور کو نہیں چن لیا؟ آخر خدا تعالیٰ کے لئے کیا مجبوری تھی کہ وہ زبور کے لئے دائود کو چنتا۔وہ بنی اسرائیل میں سے کسی اور انسان کا انتخاب کر سکتا تھا۔پس یہ دونوں باتیں غیر معقول ہیں۔یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ نے جس پر کلام نازل کیا وہ کلام اُس کی اصلاح نہیں کر سکا یا یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو چن لیا جو ناقابل اصلاح تھا یہ دونوں باتیں عقل کے بالکل خلاف ہیں۔مگر بہرحال مختلف مذاہب میں اپنے منبع سے دوری کی وجہ سے اِس قسم کے غلط خیالات پیدا ہو گئے ہیں۔یا یوں کہو کہ انسانی دماغ کی ترقی کے کامل نہ ہونے کے سبب سے پرانے زمانہ میں اِن چیزوں کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں گیا۔مگر اِسلام میں