دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 128

پیشگوئی میں بیان کی گئی ہیں کوئی ایک بھی تو حضرت مسیحؑ پر صادق نہیں آتی۔وہ کب بادشاہ ہوئے؟ کب اُن کو عجیب۔مشیر۔خدائے قادر۔ابدیت کا باپ اور سلامتی کا شہزادہ کہا گیا؟ ’’عجیب‘‘ تو شاید اُن کی پیدائش کے لحاظ سے اُن کو کہا بھی جا سکے گو ایسا کہا نہیں گیا کیونکہ جو اُ ن کو نہیں مانتے تھے وہ تو اُن کی پیدائش کو ناجائز قرار دیتے تھے۔پس وہ اُنہیں’’ عجیب‘‘ نہیں قرار دے سکتے تھے اور جو مانتے تھے وہ اُن کی پیدائش کے متعلق مختلف شبہات میں تھے۔کوئی انہیں دائود کی اولاد قرارد یتا تھا اور کوئی روح القدس کی۔دوسرا نام مشیر بتایا گیا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مشیر ہونے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ساری انجیل میں دیکھ لو کسی ایک جگہ بھی انہوں نے اپنی قوم سے مشورہ نہیں لیاا ورنہ انہوں نے اپنی قوم کو کوئی مشورہ دیا۔پھر وہ مشیر کس طرح کہلائے؟ تیسرا نام خدائے قادر بتلایا گیا ہے۔مسیح تو ساری عمر ابن اللہ کہلاتے رہے۔وہ خدائے قادر کس طرح کہلا سکتے تھے؟ اور پھر مسیح تو اناجیل کے بیان کے مطابق پھانسی دے کر مار دیا گیا تھا، ایسا انسان قادر کس طرح کہلا سکتا ہے۔اناجیل میںصاف آتا ہے کہ جب حضرت مسیح صلیب پر لٹکائے گئے تو یہودیوں نے اُن کو طعنہ دیا کہ اگر تُو خد اکا بیٹا ہے تو صلیب پر سے اُتر آ۔چنانچہ لکھا ہے:۔’’ یوں ہی سردار کا ہنوں نے بھی فقیہوں اور بزرگوں کے ساتھ ٹھٹھا مار کے کہا۔اِس نے اَوروں کو بچا یا مگر آپ کو نہیں بچا سکتا۔اگر اسرائیل کا بادشاہ ہے تو اب صلیب پرسے اُتر آوے تو ہم اِس پر ایمان لاویں گے‘‘۔۱۴۸؎ حتی کہ وہ چوربھی حضرت مسیح کے ساتھ صلیب دئیے گئے تھے اُن کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بھی اُسے طعنے مارتے تھے۔۱۴۹؎ پس حضرت مسیحؑ پر یہ حوالہ چسپاں نہیں ہو سکتا کیونکہ اُس کی قدرت نہ کبھی ظاہر ہوئی نہ لوگوں نے اُس کی قدرت کا کبھی اقرار کیا۔اُس کے دشمن بھی اُس کی قدرتوں کا انکار کیاکرتے تھے اور اُس کے دوست بھی اُس کی قدرتوں کے منکر تھے۔ا گر ایسا نہ ہوتا تو مسیح کے حواری اُس کو چھوڑ کر بھاگ کیوںجاتے؟ جیسا کہ لکھا ہے:۔’’ تب سب شاگرد اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔‘‘۱۵۰ ؎