دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 127

اِن آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کے فیصلہ کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد بھی آپ کے حواریوں کے لیے موسوی تعلیم پر عمل کرنا لازم ہوگا۔اگر یہ نہ ہوتا تو مسیح یہ کہتا کہ میں نے تو ہمیشہ کے لئے روزے منسوخ کر دئیے ہیںمگر وہ خود روز ے رکھتا ہے اور اپنے حواریوں کے متعلق خبر دیتا ہے کہ گو آجکل اِن میں کمزوری پائی جاتی ہے لیکن آئندہ زمانہ میں وہ روزے رکھنے لگ جائیں گے۔پس شریعت پر مہر کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ شریعت کو بالکل اُڑا دیا گیا بلکہ اس پیشگوئی کے یہی معنی ہیں کہ اُس مقدس کے زمانہ میں موسوی شریعت منسوخ کر دی جائے گی اور ایک نئی شریعت قائم کر دی جائے گی۔اگر یہ نہ ہوتا تو یہ کیوںکہا جاتا کہ یعقوب کے گھرانے سے خدا اپنا منہ پھیر لے گا۔کیا مسیح یعقوب کے گھرانے سے نہیں تھا؟ اگر مسیح یعقوب کے گھرانے میں سے نہیں تھا تو وہ دائود کی نسل میں سے نہیں تھا؟ اور اگر وہ دائود کی نسل میں سے نہیں تھا تو پھر مسیح کے متعلق جوپیشگوئیاں ہیں اُن کا بھی وہ مستحق نہیں تھا۔(د) یسعیاہ باب ۹ میں لکھا ہے:۔’’ ہمارے لئے ایک لڑکا تولد ہوا ور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اُس کے کاندھے پر ہو گی اور وہ اِس نام سے کہلاتا ہے۔عجیب۔مشیر۔خدائے قادر۔ابدیت کا باپ۔سلامتی کاشہزادہ۔اُس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہاء نہ ہوگی۔وہ دائود کے تخت پر اور اس کی مملکت پر آج سے لے کر ابد تک بندوبست کرے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا۔رَبُّ الافواج کی غیوری یہ کرے گی‘‘۔۱۴۷؎ اِس پیشگوئی میں ایک موعود کی خبر دی گئی ہے جو بادشاہ ہو گا اور جس کے پانچ نام ہوں گے (۱) عجیب (۲) مشیر (۳) خدائے قادر (۴) ابدیت کا باپ (۵) سلامتی کا شہزادہ۔اُس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہاء نہ ہوگی اور وہ دائود کے تخت پر ہمیشہ کے لئے بیٹھے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا۔اناجیل کے حاشیہنویسوں نے اِس باب کے شروع میں لکھا ہے کہ اِس میں مسیح کی پیدائش کی خبر ہے۔لیکن اُن علامتوں میں سے جو اِس