دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 85

جس وقت شونک رشی کاچرن دیوہ تصنیف ہوااُ س وقت شاکل سنہتا (رگوید) کے ایک لاکھ ۵۳ ہزار آٹھ سَو چھبیس لفظ، چار لاکھ ۳۲ ہزار حروف اور دس ہزار چھ سَو بائیس منتر تھے مگر آجکل گنتی کرنے پر یہ تعداد نہیں ملتی‘‘۔۶۔ڈاکٹر تارا پدچودہری ایم اے۔پی۔ا یچ۔ڈی پروفیسر پٹنہ کالج رسالہ گنگا کے وید نمبر بابت ماہ جنوری ۱۹۳۲ء کے صفحہ ۷۴ پر لکھتے ہیں:۔’’ ان کے علاوہ (ویدوں میں) ایسے الفاظ بھی ہیں جن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشدھ پاٹھ ( غلط متن) معلوم ہوتا ہے کہ بولنے والوں اور لکھنے والوں کی خامیوں کے باعث کئی قسم کی غلطیاں واقع ہو گئی ہیں‘‘۔۷۔پنڈت ویدک منی جی اپنی کتاب وید سروسو کے صفحہ ۱۰۵و۱۰۶ پر لکھتے ہیں:۔’’ گوپتھ براہمن کا زمانۂ تصنیف عین وہ زمانہ ہے جبکہ یگوں کا عروج تھا۔اُس زمانہ رگویدی ، یجر ویدی، سام ویدی اور اتھروویدی ایک دوسرے سے اینٹھے ہوئے تھے اور مختلف قسم کے فرائض اور من گھڑت طریقوں سے یگ وغیرہ کرنے میں محو تھے اور ان میں سے جس جس کو رگوید کے جس قدر منتر مطلوب تھے وہ اُس اُس نے اپنے اپنے وید میں شامل کر لئے تھے اور ہر ایک اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا تھا اور دوسروں سے نفرت کرتا تھا۔یہی نہیں بلکہ شاکھا بھید ( نسخوں) کے اختلاف کے باعث رگویدی رگویدی سے یجر ویدی یجر ویدی سے۔سام ویدی سام ویدی سے اور اتھروویدی اتھروویدی سے بھی الگ ہوگیا۔واشکل سنہتا والا شاکل سنہتا ( یہ رگ وید کے د ومختلف نسخوں کے نام ہیں) مادھنیدن سنہتا والا کانو سنہتا( یہ یجرویدی کے دو مختلف نسخوں کے نام ہیں) کؤتھم سنہتا والا رانائنی سنہتا( یہ سام وید کے دو مختلف نسخوں کے نام ہیں) اور شونک سنہتا والا پیلاد سنہتا ( یہ اتھرو وید کے د ومختلف نسخوں کے نام ہیں) کے پاٹھ ( متن) کو سب سے اعلیٰ اور خالص اور دوسری شاکھا (نسخے) کے متن کو قطعی بُرا اور غلط کہتا تھا۔آج جو وید کے مختلف نسخوں میں طرح طرح کے اختلافات نظر آتے ہیں یہ اکثر اُسی بُرے زمانہ میں جنم پائے ہوئے ہیں‘‘۔