دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 84

کہ بس جو کچھ اِس خاتمہ تک چھپا ہو ایا لکھا ہوا ہے وہ سب اتھرو وید سنہتا ہے یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ چھاپنے والا یا لکھنے والا کون اور کتنی قابلیت رکھتا ہے۔‘‘ ۲۔پنڈت مہیش چندر پرشادبی۔اے سنسکرت ساہتیہ کا اتہاس جلد دوم کے صفحہ ۱۶۰ پر لکھتے ہیں:ـ ’’ واجنئی شکل یجر وید سمہتا بالکل نئی طرز پر ہے۔اِس میں وید اور برہمن بھاگ (حصے) الگ الگ پائے جاتے ہیں۔اس میں چالیس ادھیائے ہیں۔مگر لوگوں کا وشواش ہے کہ اِن میں ۱۸۔اصل ہیں اور باقی بعد میں ملائے گئے ہیں۔ادھیائے اسے ۱۸ تک کا بھاگ تیئستری سنہتاو کرشن یجر روید کے نظم و نثر سے مطابقت رکھتا ہے۔اِن ۱۸ ادھیائوں کے ہر ایک لفظ کی تشریح اُس کے براہمن میں ملتی ہے۔مگر باقی ۱۷ ادھیائوں کے صرف تھوڑے تھوڑے منتروں پر ہی اس میں ٹپنی ( حواشی ) پائی جاتی ہے۔کاتیائن نے ادھیائے ۲۶ سے ۳۵ تک کو کھل ( ملاوٹ )کے نام سے لکھاہے۔ادھیائے ۱۹ سے ۲۵ میں بھی یگیہ کے طریقوں کا ذکر ہے۔یہ تیئستری سنہتا سے نہیں ملتے۔۲۶ سے لے کر ۲۹۔ادھیائوں تک کچھ خاص طور پر انہی یگیوں کے متعلق منتروں کا ذکر ہے جس کے بارہ میں پہلے ادھیائوں میں بیان ہے اور اِس سے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ضرور بعد میں دئیے گئے ہیں‘‘۔۳۔پنڈت شانتی دیو شاستری رسالہ گنگا فروری ۱۹۳۱ء صفحہ ۲۳۲ پر لکھتے ہیں:۔’ـ’ پہلے تو آج تک یہ بھی فیصلہ نہیں ہو اکہ وید چار ہیں یا تین۔منوسمرتی اور شت پتھ براہمن کی رو سے رگوید، یجروید اور سام وید۔یہ تین وید ہیں اور واجنئی اپنشد براہمنو اپنشد اور منڈک اپنشد کی روسے چار وید ہیں‘‘۔۴۔پنڈت ہردے نر ائن ایم۔ایس۔سی رسالہ گنگا بابت ماہ جنوری ۱۹۳۱ء میںلکھتے ہیں:۔’’ شونک رشی کے چرن دیوہ وغیرہ تصانیف میں وید منتروں اور اُن کے لفظوں اور حرفوں تک کی جو گنتی دی ہوئی ہے وہ موجودہ ویدوں میں نہیں ملتی۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویدوں میں کئی منتر ملائے گئے ہیں اور کئی نکالے گئے ہیں‘‘۔۵۔پنڈت شانتی ویوشاستری رسالہ گنگا بابت ماہ فروری ۱۹۳۱ء صفحہ ۲۳۱ پر لکھتے ہیں:۔