دیباچہ تفسیر القرآن — Page 79
کیا درختوں، دریائوں، پہاڑوں اور پتھروں کو لعنت کرنے والے انسان معقول اور بااخلاق انسان سمجھے جاتے ہیں؟ کیا انجیل میں تبدیلی کرنے والا انسان یہ خیال کرتا تھا کہ مسیح جیسے شریف انسان کو آنے والی دنیا ایسے بُرے اخلاق سے متصف سمجھ لے گی؟ عیسائی تو بیشک اُس کے دھوکا میں آگئے مگر ہم مسلمان یہ باتیں کبھی مسیح کی طرف منسوب نہیں کر سکتے۔اس لئے نہیں کہ مسیح کی شخصیت دوسرے نبیوں سے نرالی تھی بلکہ اس لئے کہ کسی شریف انسان سے بھی ہم ایسی اُمید نہیں کر سکتے خواہ وہ نبی نہ بھی ہو۔۲۔متی باب ۷ آیت ۶ میں لکھا ہے:۔’’ وہ چیز جو پاک ہے کتوں کو مت دو اور اپنے موتی سؤروں کے آگے نہ پھینکو۔ایسا نہ ہو کہ وے انہیں پامال کردیں اور پھر کر تمہیں پھاڑیں‘‘۔یہ چیز جسے پاک اور موتی قرار دیا گیا ہے خدا تعالیٰ کی وحی اور اس کے نشانات ہیں اور کتے اور سؤر سے مراد وہ لوگ ہیں جو اُس وقت تک حضرت مسیح پر ایمان نہ لائے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کے نشانات پاکیزہ چیزوں سے بھی پاک ہیں اور موتیوں سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک چیزیں اور موتی ایسے ہی لوگوں کے لئے آتے ہیں جن کو ایمان نصیب نہیں ہوتا۔کیا خدا تعالیٰ کے نبی اِن لوگوں کو ایمان دینے کے لئے آتے ہیں جو پہلے سے مؤمن ہوتے ہیں؟ ہم تو دیکھتے ہیں کہ کبھی بھی خدا تعالیٰ کے نبی ایسے زمانہ میں نہیں آئے جب دنیا مؤمن تھی ہمیشہ تاریکی اور ظلمت کے زمانہ میں خدا کے نبی آیا کرتے ہیں اور اُ ن کا کام یہی ہوتا ہے کہ دنیا کے بھولے بھٹکوں کو راہِ ہدایت کی طرف لائیں۔دنیا کی بھولی ہوئی روحیں اُن کا مقصود ہوتی ہیں اور دنیا کے بھٹکے ہوئے لوگوں کو ہدایت دینا ہی اُن کا مدعا ہوتا ہے۔کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ خدا کا پیارا اُن کو کتا اور سؤر قرار دے، محض اس جرم پر کہ ابھی تک ہدایت اُن پر ظاہر نہیں ہوئی؟ اور کیا خدا کا نبی یہ کہہ سکتا ہے کہ اُن کے آگے خدا کی تعلیمیں پیش نہ کرو کیونکہ وہ اُن کو پائوں تلے روندیں گے؟ا گر خدا تعالیٰ کے نشانات نہ ماننے والے کے سامنے پیش نہ کئے جائیں تو وہ اُن کو قبول کس طرح کریں گے اور دنیا ہدایت کی طرف آئے گی کیونکر؟ پس یہ مسیح پر بہت بڑا الزام ہے کہ جن لوگوں کی ہدایت کے لئے اُسے بھیجا گیا تھا اُنہی کو اُس نے