دیباچہ تفسیر القرآن — Page 78
پھل لگتا ہے۔(ب) وہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ایسے بد اخلاق تھے کہ بجائے اپنی غلطی پر شر مندہ ہونے کے انہوں نے ایک بے جان درخت کو بد دعا دی اور کہا کہ آئندہ کوئی تجھ سے کبھی پھل نہ کھاوے۔ہم مسلمان جو مسیح کی خدائی کے قائل نہیں انہیں خد اکا ایک نبی مانتے ہیں ہم بھی تو ان سے ایسی بد تہذیبی کے ارتکاب کو تسلیم نہیں کرسکتے۔پھر تعجب ہے ان لوگوں پر جو اُن کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں اور اخلاق کا بہترین نمونہ قرار دیتے ہیں اور پھر بھی انجیل میں ایسی باتیں ان کے متعلق پڑھتے ہیںاور انہیں برداشت کر لیتے ہیں اور اُن کے دل میں یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ یہ باتیں مسیح نے کبھی نہیں کہی ہو ںگی بلکہ دوسرے لوگوں نے اُن کی طرف منسوب کر دی ہوںگی۔آجکل کے بعض پادری اس حوالہ کے متعلق کہا کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہودی قوم اب پھل دینے کے ناقابل ہو گی اس لئے آئندہ یہودیوں میں سے کوئی نیک پھل پیدا نہیں ہو گا۔لیکن کیا کوئی شخص جو علمِ ادب سے ذرا بھی حصہ رکھتا ہو اِس عبارت کے ایسے معنی کر سکتا ہے؟ کیا انجیر کے درخت سے یہودیوں کو تمثیل دینے کیلئے اِس بات کی بھی ضرورت تھی کہ مسیح اُس وقت انجیر کے درخت کے پاس جائے جب اُسے بھوک لگی ہو۔پھر اُس درخت کے پاس جائے جس میں پتے موجود تھے اور پھر راوی اُس کے متعلق یہ الفاظ بھی کہے کہ مسیح اِس لئے اُس درخت کے پاس گیا تھا کہ شاید اُس میں کچھ پاوے۔مگر جب وہ اس کے پاس پہنچا تو پتوں کے سوا کچھ نہ پایا کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا۔مسیح کا بھوک لگنے پر درخت کے پاس جانا اورایسے درخت کے پاس جانا جس میں پتے لگے ہوئے تھے اور اس امید کے ساتھ جانا کہ اس سے پھل ملے گا جیسا کہ فقرہ’’ شاید اُس میںکچھ پاوے‘‘ سے ظاہر ہے اور پھر راوی کا یہ کہنا ’’ کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا‘‘ صاف بتاتا ہے کہ کسی تمثیل کے لئے مسیح اُس درخت کے پاس نہیں گیا تھا بلکہ اپنی بھوک کو دُور کرنے کیلئے گیا اور ایسے موسم میں گیا جبکہ ممکن تھا کہ درخت میں پھل لگا ہوا ہوتا۔مگر ابھی پورا وقت نہیں آیا تھا یا شاید اس درخت میں پھل عام موسم سے ذرا دیر میں لگتا تھا یا شاید اُس کی بیماری کی وجہ سے اس درخت میں پھل ہی نہیں لگتا تھا۔اس پر مسیح ناراض ہو گیا اور اس درخت پر لعنت کی۔