دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 66

اس نے اس کے جواب میں کہا اے بے ایمان قوم! میں کب تک تمہارے ساتھ رہوں میں کب تک تمہاری برداشت کروں اُسے میرے پاس لائو۔وہ اُسے اس کے پاس لائے اور جب اُس نے اُسے دیکھا فی الفور روح نے اسے اینٹھایا اور وہ زمین پر گرا اور کف بھرکے لَوٹنے لگا۔تب اُس نے اس کے باپ سے پوچھا کتنی مدت سے یہ اس کو ہوا؟ وہ بولا بچپن سے۔اور وہ بہت بار اسے آگ میں اور پانی میں ڈالتی تھی تاکہ اسے جان سے مار دے۔پر اگرتُو کچھ کر سکتا ہے تو ہم پر رحم کر کے ہماری مد د کر۔یسوع نے اسے کہا اگر تو ایمان لا سکے تو ایماندار کے لئے سب کچھ ہو سکتا ہے۔تب فی الفور اُس لڑکے کا باپ چلایا اور آنسو بہا کے کہا۔اے خدا وند! میں ایمان لاتا ہوں۔تومیری بے ایمانی کا چارہ کر۔جب یسوع نے دیکھا کہ لوگ دور سے جمع ہوتے ہیںتو اس ناپاک روح کو ملامت کر کے اُسے کہا اے گونگی بہری روح! میں تجھے حکم کرتا ہوں اس سے باہر نکل اور اس میں پھر کبھی مت داخل ہو۔وہ چلا کر اور اُسے بہت اینٹھا کر اُس سے نکل گئی اور وہ مردہ سا ہو گیا ایسا کہ بہتوں نے کہا کہ وہ مر گیا۔تب یسوع نے اُس کا ہاتھ پکڑ کے اُسے اُٹھایا اور وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور جب وہ گھر میں آیا اُس کے شاگردوں نے خلوت میں اُس سے پوچھا کہ ہم اُسے کیوں نہ نکال سکے؟ اُس نے انہیں کہا کہ یہ جنس سِوا دعا اور روزہ کے کسی اور طرح سے نکل نہیں سکتی‘‘۔عیسائی اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت مسیحؑ پر ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کے حصول کے لئے کسی عمل صالح کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن اوپر کے حوالہ کی یہ آیت کہ ’’یہ جنس سِوا دُعا اور روزہ کے کسی اور طرح سے نکل نہیں سکتی‘‘ بتاتی تھی کہ دعا اور روزہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہیں۔چونکہ حضرت مسیحؑ کے حواریوں نے اِن ذرائع سے کام نہ لیا اس لئے باوجود اس با ت کے کہ وہ حضرت مسیحؑ پر ایمان لا چکے تھے انجیل کے بیان کے مطابق وہ ایک بد روح کو نہ نکال سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اِس آیت کو پیش کرتے ہوئے