دیباچہ تفسیر القرآن — Page 65
گیا تھا جس کا پہلی اناجیل میں ذکر کیاگیا تھا اور جس کا جواب انہو ں نے یہ دیا کہ ’’تُو کیوں مجھے نیک کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا‘‘۔مگر عیسائیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعتراضات سے ڈر کر اِس آیت کوبدل ڈالا جو ثبوت ہے اس بات کا کہ موجودہ اناجیل میں اب بھی تحریف و تبدیل ہوتی رہتی ہے۔۳۔نمبر۱ یوحنا باب ۵ آیت ۷ میں لکھا تھا:۔’’ اور گواہی دینے والے تین ہیں۔روح اور پانی اور خون۔اور یہ تینوں ایک ہی بات پر متفق ہیں‘‘۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اِس حوالہ کی بناء پر عیسائیوں پر اعتراض کیا کہ تم تو مسیح کو خدا کہتے ہو مگر انجیل یہ بتاتی ہے کہ وہ رحمِ مادر میں نو ماہ تک خون کھاتا رہا اور یوحنا حواری کے قول کے مطابق وہ خود خون تھا۔جو شخص نوماہ تک رحمِ مادر میں خون کھاتا رہا اور جسے خود خون قرار دیا گیا ہے اُس کو خدا قرار دینا کتنی غیر معقول اور عقل و فہم سے بعید بات ہے۔یہ حملہ بھی ایسا زبردست تھا کہ عیسائی اِس کی تاب نہ لا سکے اور اُنہوں نے اِس آیت کی بجائے موجودہ اناجیل میں یہ الفاظ لکھ دئیے کہ:۔’’ تین ہیں جو آسمان پر گواہی دیتے ہیں۔باپ اور کلام اور روح قدس اور یہ تینوں ایک ہیں‘‘۔۴۔مرقس باب ۹ آیت ۱۴تا ۲۹ میں لکھا ہے:۔’’ اور جب وہ اپنے شاگردوں کے پاس آیا تو دیکھا کہ ان کے چاروں طرف بڑی بھیڑ اور فقیہوں کو ان سے بحث کرتے دیکھا اور فی الفور ساری بھیڑ اُسے دیکھ کر نہایت حیران ہوئی۔اُس کے پاس دوڑ کے اُسے سلام کیا۔تب اس نے فقیہوں سے پوچھا تم ان سے کیا بحث کرتے ہو؟ ایک نے اُس بھیڑ میں سے جواب دیا اور کہا اے استاد! میں اپنے بیٹے کو جس میں گونگی روح ہے تیرے پاس لایا ہوں وہ جہاں کہیں اسے پکڑتی ہے پٹک دیتی ہے اور وہ کف بھر لاتا ہے اور اپنے دانت پیستا ہے اور وہ سُوکھ جاتا ہے۔میں نے شاگردوں سے کہا تھا کہ وہ اسے باہر کر دیں، پر وہ نہ کر سکے۔