دیباچہ تفسیر القرآن — Page 63
یوحنا باب ۹ آیت ۱ تا ۷ میں لکھا ہے:۔’’ پھر اس نے جاتے ہوئے ایک شخص کو جو جنم سے اندھا تھا دیکھا اور اس کے شاگردوں نے اُس سے پوچھا کہ اے ربی! گناہ کس نے کیا؟ اس شخص نے یا اس کے ماں باپ نے کہ یہ اندھا پیدا ہوا۔یسوع نے جواب دیا نہ تو اس شخص نے گناہ کیا نہ اس کے ماں باپ نے لیکن یوں ہوا کہ خدا کے کام اس میں ظاہر ہوویں۔ضرور ہے کہ جس نے مجھے بھیجا ہے میں اُس کے کامو ں کو جب تک کہ دن ہے کروں۔رات آتی ہے اور کوئی اُس وقت کام نہیں کر سکتا۔جب تک میں جہان میں ہوں جہان کا نور ہوں۔یہ کہہ کے اس نے زمین پر تھوکا اور تھوک سے مٹی گوندھی اور وہ مٹی اُس اندھے کی آنکھ پر لیپ کی اور اُس سے کہا جااور سلوام کے حوض میں نہا۔تب وہ جا کے نہایا اور بینا ہو کے آیا‘‘۔چونکہ اس سے مسیح کے معجزات پر زد پڑتی تھی اس لئے تازہ اُردو بائبل میں سے یہ تالاب کا واقعہ اُڑا دیا گیا ہیجس کے صاف معنی یہ ہیں کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعتراض سے بچنے کے لئے انجیل بدل دی گئی ہے۔اگر یہ واقعہ انجیل میں نہیں تھا تو انیس سَو سال سے کس طرح اس میں شامل ہوتا چلا آیا اوراگر یہ واقعہ انجیل میں تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعتراض سے ڈر کر عیسائی دنیا نے اِس کو انجیل میں سے کیوں نکال دیا؟ ۲۔متی باب ۱۹ آیت ۱۶۔۱۷ میں لکھا تھا:۔’’ اور دیکھو ایک نے آکے اس سے کہا اے نیک استاد میں کونسا نیک کام کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پائوں؟ اُس نے اسے کہا۔تُو کیوں مجھے نیک کہتا ہے۔نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا‘‘۔یہ حوالہ اس بات کا ایک بیّن ثبوت تھا کہ حضرت مسیحؑ کے متعلق عیسائیوں کایہ اِدعا کہ وہ معصوم عن الخطاء اور ہر قسم کے گناہوں اور عیوب سے منزہ تھے بالکل باطل اور بے بنیاد ہے۔ا گر وہ گناہوں سے منزہ ہوتے تو محض ایک کے نیک اُستاد کہنے پر وہ جواب میں یہ کیوں کہتے کہ’’ تُو کیوں مجھے نیک کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا‘‘۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام