دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 61

lesson torn from its proper context had often to be supplemented by a few explanatory words, which soon ۷۷؎ came to be regarded as part of the original۔اِن بیرونی باتوں کی نسبت زیادہ اہم وہ تبدیلیاں اور وہ اختلافات ہیں جو کہ مرورِ زمانہ کی وجہ سے متن میں شامل ہوگئیں۔اِن تبدیلیوں میں سے بہت سی نقل نویسوں کی آنکھ، کان اور یادداشت یا فہم کی غلطیوں کی وجہ سے ہوئیں جن کی اپنی نیت سوائے اس کے اور کوئی نہ تھی کہ جو کچھ اُن کے سامنے ہے وہ اُسے من و عن نقل کر دیں۔لیکن مزید نسخے تیارکرنے والوں اور ان میںسے خاص طور پر ابتدائی لوگوں کا اصلی مقصد یہ نہیں تھا کہ بہت باریک بینی کے ساتھ صحت کا خیال رکھیں جیسا کہ موجودہ زمانہ کے نقادوںسے توقع کی جاتی ہے۔گرامر اور سلاست عبارت کے پیش نظر بھی ان میں اصلاحات کی گئیں۔مشکلات کو دُور کرنے کے لیے بعض معمولی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔عہد نامہ قدیم کے اقتباسات لینے میں یہ کوشش کی گئی کہ وہ زیادہ معیّن اور زیادہ اصل صورت اختیار کر لیں۔یہ کام پوری نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا کیونکہ اُس وقت ایک نقل نویس کے فرائض کے متعلق کوئی سخت نظریہ موجود نہیں تھا۔یہ بات اس سے ظاہر ہے کہ متن میں کوئی دیدہ دانستہ جھوٹ کی آمیزش جو مذہبی عقائد کی بنا پر کی گئی ہے قریباً مفقود نظر آتی ہے۔مندرجہ بالا امور کے علاوہ اس بات کا ذکر کرنا کافی ہوگا کہ حاشیہ پر درج شدہ نوٹوں کو اکثر متن میں شامل کر دیا جاتا تھا۔اور اس طرح پبلک دینی اجتماعوں میں مذہبی صحیفوں کو پڑھنے کے رواج نے ایسی زیادتیاں کر دیں جیسا کہ دعائے ربّانی کے نعتیہ اشعار میں۔اسی طرح بعض دینی اسباق کو اپنے اصل متن سے علیحدہ کیا جاتا تو اس کی ابتداء میں بعض تشریحی الفاظ کا اضافہ کیا جاتا۔اور یہ تشریحات کچھ عرصہ کے بعد اصل عبارت کا حصہ سمجھی جانے لگیں۔(ی) اور پھر لکھا ہے:۔It appears from what we have already seen that a considerable portion of the NT is made up of writing not ۷۸؎ directly apostolic۔جن امور کاہم اِس سے پہلے جائزہ لے چکے ہیں اُن سے ظاہر ہے کہ عہد نامہ جدید کے