دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 58

(ج) کاتھلک ہیرلڈ جلد ۷ مطبوعہ ۱۸۴۴ء صفحہ ۲۰۵ پر لکھاہے:۔’’ اسٹاڈسن اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ یوحنا کی انجیل یقینا بِلاریب مدرسہ اسکندریہ کے کسی طالب علم نے لکھی ہے اور ہارن اپنی تفسیر میں لکھتاہے کہ فرقہ ایلوجین جو دوسری صدی میں تھا اس انجیل ( یوحنا) اور اسی طرح یوحنا کی سب تصنیفات سے انکار کرتاہے‘‘۔(د) یوسیبس اپنی تاریخ کلیسیاء کی کتاب نمبر ۳ کے باب ۳ میں لکھتا ہے کہ:۔’’پطرس کا پہلا خط سچا ہے مگر دوسرا خط پطرس کا کبھی پاک کتاب میں شامل نہیں کیا گیا لیکن پڑھا جاتا تھا‘‘۔(ہ) پھر اِسی کتاب کے پچیسویں باب میں لکھتا ہے کہ:۔’’ نامۂ یعقوب اور نامۂ یہودا اور نامۂ روم پطرس اور نامۂ دوم سوم یوحنا پر کلام کیا گیا ہے کہ آیا یہ سب انجیل نویسوں نے لکھے ہیں یا دوسرے لوگوں نے جن کے یہی نام تھے‘‘۔۷۴؎ (و) تفسیر بائبل ہارن صاحب جلد ۴ میں لکھا ہے کہ:۔پہلے اناجیل عبرانی میں تھیںپھر کسی غیر معلوم شخص نے یونانی میں ترجمہ کیا۔(ز) انسائیکلو پیڈیا ببلیکا میں لکھا ہے:۔``The NT was written by Christians for Christians: it was moreover written in Greek for Greek speaking Communities, and the style of writting ( with the exeption, possibly, of the Apocalypce) was that of current literary composition۔There has been no real break in the continuity of the Greek-speaking church and we find accordingly that few real blunders of writing are met with in the leading types of the extent texts۔This state of things has not prevented Variations, but they are not for the most part accidental۔And over whelming majority of the