دیباچہ تفسیر القرآن — Page 40
’’ ایسا نہ ہو کہ آدم اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے‘‘۔یہ آیت بتاتی ہے کہ آدمؑ نے حیات کے درخت سے کچھ نہ کھایا تھا۔اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اِس آیت کا مضمون درست ہے جو بتاتی ہے کہ آدمؑ نے حیات کے درخت سے کچھ نہ کھایا تھا یا اس باب کی آیت ۲ درست ہے جس میں آدم کی بیوی کا قول درج ہے کہ سوائے نیک وبد کی پہچان کے درخت کے باقی سب درختوں کا پھل آدم اور حوا کھاتے تھے۔اور آیا یہ بات درست ہے کہ نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل کھانے سے انسان ضرور مرتا ہے یا یہ بات درست ہے کہ حیات کے درخت کا پھل کھانے سے انسان کبھی نہیں مرتا۔یہ سب متضاد باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کلام میںایسی باتیں نہیں آسکتیں۔یقینا یہ باتیں مختلف مصنّفین نے اپنے اپنے خیالات کے مطابق تورات میں درج کر دیں اور چونکہ اُن مصنّفین کے خیالات متضاد تھے اس لئے اُن کے پیش کردہ نظریے بھی متضاد تھے۔اور جس کتاب میں متضاد باتیںآجائیں جو ایک ہی وقت میں اورا یک ہی انسان میں کسی صورت میں جمع نہ ہو سکیں اور وہ کتاب ان کو ایک ہی وقت اور ایک ہی انسان میں جمع کرتی ہو تو یقینا وہ خدا کی کتاب تو الگ رہی ایک عقلمند انسان کی کتاب بھی کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی۔مگر موسیٰ علیہ السلام یقینا خدا کے نبی تھے اور تورات یقینا خد اکی نازل کردہ کتاب تھی پس یہ اختلاف بعد میں پیدا ہوا۔نہ اس اختلاف سے خدا تعالیٰ پر کوئی الزام آتا ہے اور نہ موسیٰ پر۔ہاں یہ ہم ضرور کہیں گے کہ خدا نے جب بائبل کی جگہ ایک اورکتاب نازل کرنے کا فیصلہ کر لیا تو بائبل کی حفاظت سے اُس نے ہاتھ کھینچ لیا اور وہ ایک محفوظ کتاب نہ رہی۔۳۔پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۴ میں لکھاہے:۔’’اور ابراہام نے اُس مقام کا نام ’’ یہوواہ یزی‘‘ رکھا۔‘‘ چنانچہ یہ آج تک کہا جاتا ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر دیکھا جائے گا‘‘۔لیکن خروج باب۲ آیت ۲،۳ میں لکھا ہے۔’’ پھر خدا نے موسیٰ کو فرمایا اور کہا میں خداوند ہوں ’’ یہوواہ‘‘۔اور میں نے