دیباچہ تفسیر القرآن — Page 483
بھی کہتا ہے کہ آسمان پر کوئی نہیں جاتا مگر وہی جو آسمان سے آتا ہے۔روحانی نظام کی تکمیل کے لئے قرآنی اصول روحانی نظام کی تکمیل کے لئے قرآن کریم نے یہ اصول مقرر فرمایا ہے کہ چونکہ شریعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی ہے اس لئے آئندہ کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں آئے گا۔قرآن کریم آخری کتاب ہے اس کو جُزْوًا یا کلُاًّ کوئی اور کتاب منسوخ نہیں کر سکتی۔قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت روحانی عالم میں رہتی دنیا تک رہے گی، لیکن انسان بھول بھی جاتا ہے، غلطی بھی کرتا ہے اور بغاوت بھی کرتا ہے ان تینوں مرضوں کا علاج کئے بغیر قرآنی حکومت قیامت تک صحیح طور پر نہیں چل سکتی۔پیشگوئی دربارہ ظہور مسیح موعود بھولنے والے کو یاد کرانے والا، غلطی کرنے والے کی اصلاح کرنے والا اور باغی کو زیر نگین لانے والا آدمی ضرور چاہئے۔قرآن کریم اس کا یہ علاج بتاتا ہے کہ جس طرح سورج کی عدمِ موجودگی میں چاند دنیا کو روشن کرتا ہے، اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے انسان کھڑے کئے جائیں گے جو چاند کی طرح محمد رسول اللہ ﷺسے نور کا اکتساب کر کے دنیا کو روشن کرتے رہیں گے۔یہ لوگ زمانہ کی ضرورت کے مطابق عام حالتوں میں تو مجدد کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور دنیا کی وسیع خرابی اور تباہی کے وقت میں تابع نبی یا اُمتی نبی کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔چنانچہ ایک ایسے ہی وجود کے متعلق قرآن شریف میں متعدد مقامات پر خبر دی گئی ہے۔( دیکھو سورۃ جمعہ ع۔سورہ صف ع۔سورہ آل عمران)۵۸۷؎ اور اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ثانی قرار دیا گیا ہے حدیثوں میں اس بروز ثانی کا نام مسیح بھی رکھا گیا ہے اور قرآن کریم میں بھی مسیح کے نام کی طرف ضمناً اشارہ کیا گیا ہے (دیکھو سورۃ زخرف رکوع۶)۵۸۸؎ دوسرا نام حدیثوں میں اس کا مہدی رکھا گیا ہے مگر یہ وجود ایک ہی ہے مختلف جہات سے اس کے مختلف نام ہیں۔انجیل میں بھی محمد رسول اللہ ﷺکی اس بعثتِ ثانیہ کا ذکر مسیح کے دوبارہ نزول کے وعدہ میں کیا گیا ہے۔موجودہ زمانہ کے حالات بتا رہے ہیں کہ یہ وہی زمانہ ہے جس کی پیشگوئی پرانی کتب میں اور قرآن کریم میں کی گئی ہے۔