دیباچہ تفسیر القرآن — Page 482
) ( انہی اصول کی نقل کر رہی ہے لیکن پوری طرح نقل نہ کر سکنے کی وجہ سے ناکامیاب ہو رہی ہے۔پہلی لیگ آف نیشنز اس لئے ناکام ہوئی کہ وہ قرآنی اصول میں سے اس اصل کی خلاف ورزی کر رہی تھی کہ متخاصمین میں سے جو حکومت پنچائتی فیصلہ کو تسلیم نہ کر ے اُسے زور اور طاقت کے ساتھ منوایا جائے اور اب نئی لیگ اس اصول کی خلاف ورزی کررہی ہے کہ مغلوبین سے پنچائتی حکومتیں زائد فوائد حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ ابتدائی جھگڑے تک ہی اپنے فیصلوں کو محدود رکھیں پس یہ لیگ بھی اسی نتیجہ کو دیکھے گی جو پہلی لیگ نے دیکھا تھا۔کیونکہ امن کے قیام کا صرف وہی ذریعہ ہے جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔حیات مَابَعْدَ الْمَوْت قرآنی تعلیم کے رو سے دنیا کا یہ نظام جس کا میںپہلے نقشہ کھینچ چکا ہوں، آخر انسان کی موت کے ذریعہ سے ایک نئی شکل بدل لیتا ہے۔انسانی ارواح ایک نئے عالم میں جاتی ہیں اور روح ایک نیا جسم اختیار کرتی ہے، مگر وہ اِس قسم کا جسم نہیں ہوگا جس قسم کا جسم ہمیں اِس دنیا میں حاصل ہے۔وہ ایک نئی قسم کا روحانی جسم ہو گا جو انسان کی روح کو خدا تعالیٰ کا حسن کو دیکھنے کے لئے نئی طاقتیں بخشے گا۔کامل روحیں معاً اُس مقام پر رکھ دی جائیں گی جسے جنت کہتے ہیں اور ناقص روحیں اُس جگہ ڈال دی جائیں گی جسے دوزخ کہتے ہیں اور جو درحقیقت روحانی بیماریوں کا شفاخانہ ہے۔جوں جوں ارواح کی اصلاح ہوتی چلی جائے گی اُنہیں جنت میں بھیجا جاتا رہے گا یہاں تک کہ دوزخ بالکل خالی ہوجائے گا اور تمام کے تمام انسان جنت میں داخل ہوجائیںگے۔جس طرح وہ خدا کی طرف سے آئے تھے وہ سب کے سب خدا ہی کی طرف چلے جائیں گے۔اُن کی خوشیاں اور اُن کی لذتیں اور اُن کی راحتیں سب روحانی ہو ں گی اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اُس کی محبت اُن کی سب سے بڑی غذا ہوگی اور اُس کی رُؤیت اُن کا سب سے بڑا انعام ہو گا۔قرآن کریم اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ۵۸۶؎ اِس عالم کے دونوں سرے خدا ہی کے ہاتھ میں ہیں۔اس کی پیدائش کا سرا بھی خد اتعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے خاتمہ کا سرا بھی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔جو خدا سے آیا وہ خدا ہی کی طرف جائے گا۔جیسے مسیح