دیباچہ تفسیر القرآن — Page 479
یا اُن سہولتوں کو نظر انداز نہیں کرتا جن کے ماتحت کام کرنے والے کے عمل میں کوئی کمزوری پیدا ہوئی یا جن کی مدد سے کام کرنے والے کو کام میں سہولت حاصل ہوئی۔قرآن کریم سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح جسمانی دنیا نے آہستہ آہستہ ترقی کی ہے اسی طرح روحانی دنیا کے لئے بھی آہستہ آہستہ ترقی مقدر تھی اسی لئے خدا تعالیٰ کا کامل کلام دنیا کے شروع میں نہیں آیا۔جوں جوں انسان ترقی کرتا چلا گیا اُسے اس کی ترقی کے درجہ کے مطابق شریعت دی گئی آخر ہوتے ہوتے انسان اس مقام پر پہنچ گیا جبکہ وہ کامل ترین شریعت کا حامل ہو سکتا تھا اُس وقت خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت دنیا کا کا مل ترین وجود ظاہر ہوا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے پس آپ پر خدا تعالیٰ کی طر ف سے آنے والی شریعتوں میں سے کامل ترین شریعت اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کتابوں میں سے کامل ترین کتاب نازل کی گئی۔وہ کامل کتاب قرآن کریم ہے اور کامل شریعت اسلام ہے۔آپ کے وجود سے روحانی نظام کی تکمیل ہوئی، جس طرح مادی عالَم کا نقطۂ مرکزی انسان ہے، جس طرح مختلف زمانوں اور قوموں کیلئے اُن کا نقطہ مرکزی اُن کے انبیاء ہیں اِسی طرح تمام بنی نوع انسان کیلئے نقطۂ مرکزی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔پس قرآنی نقشہ ٔعالَم اس طرح ہے کہ تمام مادی عالَم کا پہلا نقطہ مرکزی انسان ہے یہ انسان مختلف دائروں میں اپنے اپنے زمانہ کے نبیوں کے گرد گھومتے ہیں۔تمام نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھومتے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے گرد گھومتے ہیںاور اس طرح روحانی دنیا مکمل ہو جاتی ہے۔قانونِ شریعت، قانونِ اخلاق، قانونِ تمدن میں اوپر بتا چکا ہوں کہ انبیاء کے ذریعہ سے دنیا میں جو تکمیل ہوئی ہے وہ کم و بیش تین طرح ظاہر ہوتی ہے۔ایک قانونِ شریعت کے ذریعہ سے دوسرے قانونِ اخلاق کے ذریعہ سے تیسرے قانونِ تمدن کے ذریعہ سے۔قرآن کریم چونکہ اعلیٰ اور اکمل کتاب ہے اُس نے ان تینوں شقوں کو بیان کیا ہے۔قانونِ شریعت اور قانونِ اخلاق کو مکمل طور پر اور قانونِ تمدن کو اصولی طو رپر کیونکہ قانونِ تمدن میں انسان کو بہت سے اختیارات دیئے گئے ہیں۔قانونِ اخلاق کے متعلق قرآن شریف نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ اخلاقِ فاضلہ درحقیقت