دیباچہ تفسیر القرآن — Page 454
ہوجانے کا۔اُن ذرات کو جب الگ کردیا جائے تو انسانی جسم باقی نہیں رہتا۔جب انسان مرجاتا ہے اور اس کو مٹی میںدفن کرتے ہیں تو مٹی کی رطوبت اور دوسرے کیمیاوی اثرات اُس کے جسم کو خاک بناکر رکھ دیتے ہیںوہ ذرے جن سے انسانی جسم بنا تھا وہ تو اب بھی موجود ہوتے ہیں مگر علت کے بدل جانے کی وجہ سے انسانی جسم موجود نہیں رہتا۔جب اسی انسانی جسم کو آگ میں جلا دیا جاتا ہے یا پانی میں گلا دیا جاتا ہے یا بجلی سے راکھ کر دیا جاتا ہے تو جن چیزوں سے انسان بنا تھا وہ تو پھر بھی موجود رہتی ہیں مگر آگ یا بجلی یا پانی کے اثرات سے اُن کی شکل بدل جاتی ہے اور انسانی جسم کو اس کی موجودہ شکل میں قائم رکھنے کی جو علت تھی اُس کے مٹتے ہی انسانی جسم بھی مٹ جاتا ہے مگر خدا کیلئے یہ بات نہیں ،اُسے کوئی خارجی سبب وجود نہیں دے رہا ہے۔یا اُس کے وجود کو قائم نہیں رکھ رہا بلکہ وہ خود کامل ہستی ہونے کی وجہ سے موجود ہے اور وقت کی قید سے آزاد ہے گو انسانی دماغ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیونکر وقت کی قید سے آزاد ہے جب کہ سب مادہ وقت کی قید میں مبتلا ہے۔اس کا جواب درحقیقت یہی ہے کہ خدا کا وجود اَور طرح کا ہے اور انسان کا وجود اَور طرح کا ہے انسان کے وجود یا مادی وجود پر خدا تعالیٰ کا قیاس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ہر چیزمیں منفرد ہے۔اسی مضمون کو قرآن کریم ایک دوسری جگہ اِن الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ۵۶۵؎ وہ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے اس نے ہر چیز کی جنس میں سے اُ س کا جوڑا بنایا ہے۔چار پایوں کی جنس میں سے بھی اُن کا جوڑا بنایا ہے اور وہ ان جوڑوں کے ذریعہ سے مادی دنیا کو ترقی دیتا چلا جاتا ہے یعنی تمام دنیا میں خواہ وہ حیوان ہوں یا نباتات یا جمادات جوڑوں کا سلسلہ چل رہا ہے خواہ اس کو نرو مادہ کہہ لو خواہ اسے مثبت و منفی کہہ لو۔خواہ اس کا کوئی اور نام رکھ لو۔بہرحال یہ ساری دنیا جوڑوں کے اصول پر چل رہی ہے۔ایک اور جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۵۶۶؎ اور ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔یعنی تا یہ تم سمجھ سکو کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ