دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 453

انواع و اقسام کی اشیاء سے بھر رہا ہے جن اشیاء کے استعمال سے ہی اس دنیا کی ترقی اور اس کی کامیابی کا راز وابستہ ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی ایک روحانی نظام بھی ہے اور جس طرح اس مادی عالم کے تمام نظام ہائے شمسی کا ایک مرکز فرض کیا جاتا ہے قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح روحانی دنیا کابھی درحقیقت ایک مرکز محیط ہے یعنی کوئی ایسی چیز نہیں جو اُس مرکز کے تصرف اور اس کے اختیار اور اس کے قبضہ سے باہر ہو۔وہ ہستی آپ ہی آپ موجود ہے کوئی اس کا پیدا کرنے والا نہیں وہ اپنے کاموں میں کسی اور کا محتاج نہیں نہ اس کا کوئی باپ ہے، نہ اُس کا کوئی بیٹا ہے نہ اُس کی طاقتوں میں کوئی اور شریک ہے چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے ۵۶۴؎ اے محمد رسول اللہ! تُو دنیا کو سناد ے کہ حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام طاقتوں میں منفرد ہے گو دوسری چیزوں کی صفات اور اُس کی بعض صفات میں ظاہری تشابہہ نظر آتا ہے لیکن وہ تشابہہ صرف لفظی اور ظاہری ہے حقیقتاً خد اتعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو مشابہت نہیں۔مثلاً ظاہر میں خدا تعالیٰ بھی موجود ہے اور انسان بھی موجود ہے مگر انسان اور حیوان اور دوسری چیزوں کا وجود باوجود اس کے کہ لفظاً خد اتعالیٰ کے وجود کے ساتھ اشتراک رکھتا ہے حقیقتاًدونوں ایک چیز نہیں۔خدا تعالیٰ کے متعلق جب ہم کہتے ہیں کہ وہ موجود ہے تو اس کے معنی یہ ہوا کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں کامل وجود ہے اور جب ہم انسان یا حیوان یا دوسری چیزوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ موجود ہیں تو ہمارا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ جب تک وہ اسباب اور وہ علتیں موجود ہیں جن کے تغیرات کے نتیجہ میں انسان یا حیوان یادوسری اشیاء پیدا ہوئی ہیں اُس وقت تک اُس انسان یا حیوان یا موجودات کا وجودقائم رہے گا۔اگر وہ اسباب اور وہ علتیں پیچھے ہٹالی جائیں تو اس کا وجود بھی فنا ہوجائے یا وہ اسباب اور علل جتنے جتنے ہٹا لئے جائیں گے اتنا اتنا ہی وہ فنا ہوتا جائے گا۔مثلاً ایک زندہ انسان کی زندگی کا موجب اُس کی روح کا جسم سے تعلق ہے انسان کا زندہ ہونا ایک عارضی تعلق کی وجہ سے ہے جب وہ عارضی تعلق قطع ہوجاتا ہے تو انسان تو رہتا ہے مگر زندہ نہیں رہتا۔انسانی جسم موجود تو ہوتا ہے مگر انسانی جسم نام ہے چند عارضی اسباب کی وجہ سے چند ذرات کے ایک خاص شکل میں جمع