دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 429

وہ ایک بے مثل کلام ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اِس سوال پر بھی تمہید میں روشنی ڈالنی ضروری ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم دنیا کے سامنے دواصل پیش کرتا ہے۔ایک یہ کہ خد اتعالیٰ کی بعض سنتیں ایسی ہیں جن کو وہ کبھی تبدیل نہیں کرتا۔مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مردے زندہ ہو کر دوبارہ اِس دنیا میں نہیں آتے۔یا اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ کوئی انسان خدا تعالیٰ کے سوا حقیقی مخلوق پیدا کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔دنیا میں صناع بھی ہو سکتے ہیں، موجد بھی ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں لیکن حقیقی خالقیت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔اِن دونوں دعوؤں میں سے دعویٰ اوّل یعنی مردوں کے زندہ نہ ہونے کا ذکر سورۃ مؤمنوں میں کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۵۵۴؎ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوتے وقت بعض روحیں یہ استدعا کریں گی کہ وہ واپس جائیں تاکہ وہ دوبارہ نیک اعمال کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ دعا ایسی نہیں جس کو قبول کیا جائے کیونکہ قیامت تک روحوں اور اُس د نیا کے درمیان ایک حد فاصل مقرر کر دی گئی ہے اور کوئی روح اِس دنیاکی طرف واپس نہیں لَوٹ سکتی۔اِسی طرح سورۃ انبیاء میں آتا ہے کہ ۵۵۵؎ یعنی وہ تمام قومیں جو ہلاک ہو چکی ہیں، اُن کے متعلق ہم یہ قطعی طور پر فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ دوبارہ اِس دنیا میں واپس نہیں آئیں گی یہاں تک کہ یا جوج و ماجوج کیلئے دروازہ کھول دیا جائے گا اور وہ ہر پہاڑی اور ہر سمندری لہر پر سے دَوڑتے ہوئے دنیا میں پھیل جائیں گے۔اِس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مردے دوبارہ دنیا میںزندہ نہیں ہوا کرتے۔یہ جو کہا گیا ہے کہ یاجوج و ماجو ج کے زمانہ تک ایسا نہیں ہوگا اِس کا یہ مطلب نہیں کہ بعد میں مردے زندہ ہونے لگ جائیں گے بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ قیامت کے قرب کا ز مانہ ہے اور اِس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قیامت کے زمانہ تک ایسا کام نہیں ہوگا۔بعض نحویوں نے اِس کے یہ