دیباچہ تفسیر القرآن — Page 419
میں ہے وہ اصلی ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی غیر محرف تصنیف ہے۔(۳) پھر یہ بحث کرنے کے بعد کہ قرآن کی ترتیب ہماری سمجھ نہیں آتی لکھتے ہیں کہ:۔``There is otherwise every security internal and external that we possess a text the Same as that which ۵۳۷؎ Mohammad himself gave forth and used۔`` ترجمہ: اس کے علاوہ ہمارے پاس ہر ایک قسم کی ضمانت موجود ہے اندرونی شہادت کی بھی اور بیرونی کی بھی کہ یہ کتاب جو ہمارے پاس ہے وہی ہے جو خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کی تھی اور اسے استعمال کیا کرتے تھے۔(۴) پھر لکھتے ہیں: ``And we conclude with at least a close approximation to the verdict of VON Hammer that we hold the Quran to be as suerly Mohammad,s word as the ۵۳۸؎ Mohammadns held it to be the word of God``۔ترجمہ: ہم وان ہیمر کے مندرجہ ذیل فیصلہ کے بالکل مطابق نہ سہی کم سے کم اُس کے خیال کے بہت موافق فیصلہ تک پہنچتے ہیں وہ وان ہیمر کا فیصلہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں جو قرآن موجود ہے اس کے متعلق ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کا غیر محرف کلام ہے جس یقین سے مسلمان کہتے ہیں کہ وہ خدا کا غیر مبدل کلام ہے۔(۵) ’’نولڈ کے‘‘ کا قول ہے: ``Slight clerical errors there may have been but the Quran of Othman contains none but genuine elements, though sometimes in very strange order Efforts of European scholars to prove the existence of later ۵۳۹؎ interpation in the Quran have failed``۔ترجمہ: ممکن ہے کہ تحریر کی کوئی معمولی غلطیاں (طرزِ تحریرکی) ہوں تو ہوں، لیکن جو