دیباچہ تفسیر القرآن — Page 413
صرف ایک ہی جگہ پر نہیں صحابہ کی مختلف مجالس میں قرآن پڑھایا جاتا تھا۔حضرت امام احمدؒ اپنی کتاب میں جابر بن عبداللہؓ سے روایت نقل کرتے ہیںکہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو لوگ بیٹھے ہوئے قرآن شریف پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا ہاں قرآن پڑھو اور خوب پڑھو اور اللہ کی رضا حاصل کرو۔پیشتر اس کے کہ وہ قوم آئے جو قرآن کے لفظوں کو تو صحیح پڑھے گی لیکن مزدوری اور دُنیوی فائدہ کے لئے پڑھے گی۔اپنے نفس کی اصلاح کے لئے نہیں۔جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ ہماری اِس مجلس میں نہ صرف مہاجر اور انصار تھے بلکہ عجمی اور اعرابی بھی اس میں شامل تھے یعنی جنگلوں کے رہنے والے اور غیر عربی لوگ بھی۔قراء کی تعداد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اتنی بڑھ چکی تھی کہ وہ ہزاروں کی تعداد تک پہنچ گئے تھے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معاً بعد جب مسیلمہ نے بغاوت کر کے ایک لاکھ سپاہیوں کے ساتھ مدینہ پر حملہ کر دیا اور ان کے مقابلہ کے لئے حضرت ابوبکرؓ نے خالدؓ بن ولید کو تیرہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ بھیجا تو اُس وقت بعض نئے نئے مسلمان ہونے والے لوگوں کی کمزوری کی وجہ سے متواتر مسلمانوں کو ضمنی طور پر شکست پر شکست ہونے لگی یعنی یہ تو نہیں تھا کہ لشکر اِسلامی بھاگ گیا ہو لیکن اِس کو کئی مقام چھوڑنے پڑے تھے۔اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں سے جو لوگ قرآن کریم کے حافظ تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ اس سارے لشکر سے مسیلمہ کا مقابلہ نہ کریں صرف ہم لوگ جو قرآن شریف کے جاننے والے ہیں ہمیں ایک الگ لشکر کی صورت میں ترتیب دے کر اُس کے مقابلہ کے لئے آگے کریں کیونکہ ہم اسلام کی قیمت جانتے ہیں اور اس کے بچانے کے لئے اپنی جانیں دینے کی قدر ہمیں معلوم ہے۔اُن کی اِس بات کو خالدؓ بن ولید نے مان لیا اور قرآن شریف کے حفاظ صحابہؓ کو الگ کر دیا اور وہ تین ہزار نکلے۔اِن تین ہزار آدمیوں نے اِس شدت سے مسیلمہ کے لشکر پر حملہ کیا کہ اُس کو پیچھے ہٹ کر ایک محدود مقام میں محصور ہونا پڑا اور آخر اس کا لشکر تباہ ہوگیا۔اُس وقت اِن حفاظِ صحابہؓ نے شعارِ جنگ کے الفاظ یہ مقرر کئے تھے۔’’ اے سورۃ بقرہ کے حافظو‘‘۔یہ شعار انہوں نے اس لئے مقرر کیا کہ سورۃ بقرہ قرآن مجید کی سورتوں میں سے سب سے