دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 412

حضرت حفصہؓ اور حضرت اُم سلمہؓ۔اِن میںسے اکثر نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی قرآن شریف حفظ کر لیا تھا اور بعض نے آپ کی وفات کے بعد حفظ کیا۔اور ابن ابی دائود کتابُ الشریعت میں لکھتے ہیں کہ مہاجرین میں سے تمیم بن اوس الداریؓ اور عقبتہ بن عامرؓ کا حافظ ہونا بھی ثابت ہے۔اسی طرح بعض مصنفوں نے ثابت کیا ہے کہ مہاجرین میں سے عمرو بن العاصؓ اور موسیٰ اشعری ؓ بھی حافظِ قرآن تھے۔انصار میں سے جو مشہور حفاظ تھے اُن کے نام یہ ہیں:۔عبادہ بن صامتؓ۔معاذؓ۔مجمع بن حارثہؓ۔فضالہ بن عبیدؓ۔مسلمہ بن مخلدؓ۔ابوالدرداءؓ۔ابوزیدؓ۔زید بن ثابتؓ۔ابی بن کعبؓ۔سعد بن عبادہؓ۔اُمّ ورقہؓ۔تاریخ سے ثابت ہے کہ صحابہؓ میں سے بہت سے قرآن کریم کے حافظ تھے۔جیسا کہ سوانح میں واقعہ بئر معونہ کے ماتحت ذکر آچکا ہے کہ سنہ۴ھ ہجری میں بعض قبائل کی درخواست پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷۰ آدمی لوگوں کو دین سکھانے کے لئے بھیجے تھے جو سب کے سب قرآن کریم کے حافظ تھے۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے یہ لوگ اپنی اپنی مجالس میں رات دن قرآن سناتے تھے۔چنانچہ حافظ ابویعلی لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ابوموسٰیؓ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اور بہت سے لوگ اِن کے اِردگرد جمع ہیں اور وہ اُن کو قرآن یاد کر ا رہے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم مجھے وہاں کسی ایسی جگہ پر بٹھا سکتے ہو جہاں سے وہ لوگ مجھے نہ دیکھ سکیں۔اُس نے کہا ہاں۔اس پر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گیا اور گھر کے کسی ایسے کونہ میں جا کر بٹھا دیا جہاں لوگوں کو آپ نظر نہیں آتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ کی قراء ت کو سنا تو وہ بالکل درست تھی اور بہت اچھی طرح وہ قرآن پڑھ رہے تھے اس پر آپ نے فرمایا اِنَّہُ لَیَقْرَأُ عَلٰی مِزْمَارِمِنْ مَزَامِیْرِ دَاوٗدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وہ تو دائود علیہ السلام کے خوبصورت طریق پر قرآن پڑھ رہا ہے۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علاوہ ان چار حافظوں کے جن کو آپ نے اُستاذ الاساتذہ مقرر کیا تھا باقی لوگوںکی قرأت کا بھی امتحان لیتے رہتے تھے اور ان کی نگرانی رکھتے تھے تاکہ وہ کوئی غلطی نہ کر بیٹھیں۔