دیباچہ تفسیر القرآن — Page 400
کیں تاکہ صحابہؓ ان سے کھانا پکا سکیں۔۵۱۵؎ چشم پوشی آپ ہمیشہ اِس بات کی نصیحت کرتے رہتے تھیکہ خواہ مخواہ دوسروں کے کاموں پر اعتراض نہ کیا کرو اور ایسے معاملات میں دخل نہ دیا کرو جو تمہارے ساتھ تعلق نہیں رکھتے کیونکہ اس طرح فتنہ پیدا ہو تا ہے۔آپ فر مایا کرتے تھے کہ انسان کے اِسلام کا بہترین نمونہ یہ ہے کہ جس معاملہ کا اُس سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہو اُس میں خواہ مخواہ دخل اندازی نہ کیا کرے۔آپ کا یہ خلق ایسا ہے کہ جس کی نگہداشت کر کے دنیا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ہزاروں ہزار خرابیاں دنیا میں اِس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ مصیبت زدہ کی مدد کرنے کیلئے تو تیار نہیں ہوتے مگر خواہ مخواہ لوگوں کے معاملات پر اعتراض کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔سچ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی مقام تو سچ کے متعلق اتنا بالا تھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا نام ہی صدیق رکھ دیا تھا۔۵۱۶؎ آپ اپنی جماعت کو بھی سچ پر قائم رہنے کی ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے اورایسے اعلیٰ درجہ کے سچ کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش فرماتے تھے جو ہر قسم کے جھوٹ کے شائبوں سے پاک ہو۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ سچ ہی نیکی کی طرف توجہ دلاتا ہے اور نیکی ہی انسان کو جنت دلاتی ہے اور سچ کا اصل مقام یہ ہے کہ انسان سچ بولتا چلا جائے یہاں تک کہ خدا کے حضور بھی وہ سچا سمجھا جائے۔۵۱۷؎ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص قید ہو کر آیا جو بہت سے مسلمانوں کے قتل کا موجب ہو چکا تھا۔حضرت عمرؓ سمجھتے تھے کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور وہ باربار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف دیکھتے تھے کہ اگر آپ اشارہ کریں تو اُسے قتل کر دیں۔جب وہ شخص اُٹھ کر چلا گیا تو حضرت عمرؓ نے کہا۔یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ شخص تو واجب القتل تھا۔آپ نے فرمایا۔واجب القتل تھا تو تم نے اُسے قتل کیوں نہ کیا۔اُنہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! آپ اگر آنکھ سے اشارہ کر دیتے تو میں ایسا کر دیتا۔آپ نے فرمایا نبی دھوکے باز نہیںہوتا۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ میں منہ سے تو اُس سے پیار کی باتیں کر رہا ہوتا اور آنکھ سے اُسے قتل کرنے کا اشارہ کرتا۔۵۱۸؎ ایک دفعہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!