دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 29

کہ وہ باغی ہو یا منافق ہو اور عیسائی قانون نے انسان کو تمام اخلاقی ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا اور اس کے دماغ میں یہ بات ڈال دی کہ خدا کا قانون تیری اصلاح نہیںکر سکتا۔تب انسان نے خدا کے کام کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور انسان نے اپنی نجات کے لئے اپنا رستہ آپ تلاش کرنا شروع کر دیا اور دنیا نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ وہی مذہب جو نجات کے لئے خدا کی راہنمائی کو ضروری قرار دیتا تھا اس نے اپنی ترقی کے لئے خدا کی راہنمائی کو غیر ضروری قرار دے دیا۔چونکہ ہمارے سامنے مختلف مذاہب میں سے مکمل کڑی صرف بنی اسرائیل کے مذہب کی ہے اس لئے میں نے اس کی مثال پیش کی ہے کیونکہ مسلسل کڑیوں سے ہی ارتقاء کا مسئلہ نکالا جا سکتا ہے اور اسرائیلی مذہب کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسانی دماغ پرانے زمانہ میں ارتقاء کی منزلیں طے کرتا چلاجارہا تھا۔اِسی طرح دنیا کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسانی دماغ تمدن کے مختلف اَدوار میں سے گزرتا چلا آیا ہے، مگر پھر بھی اخوتِ انسانی کے نقطۂ مرکزی تک وہ کبھی نہیں پہنچ سکا۔پس یہ دونوں شہادتیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ جس طرح انسانی جسم نے پیدائش عالم کے ابتدائی دَور میں ارتقاء کی منزلیں طے کی تھیں اسی طرح انسانی دماغ بھی انسانی تاریخ کے ابتدائی اَدوار میں ارتقاء کی منزلیں طے کرتا چلا آیا تھا لیکن اسلام سے پہلے وہ کبھی بھی ارتقاء کی آخری منزل تک نہیں پہنچا۔اپنی تمدنی ترقیوں کے اَدوار میں وہ کبھی بھی قومی اور نسلی امتیازوں سے بالا نہیں ہوا اورانسانی اخوت کا مسئلہ اُس کے ذہن میں نہیں آیا نہ اپنی تہذیبی ترقی کے اَدوار میں اُس نے شریعت اور قانون کے آخری نقطہ کو پایا۔موسوی تعلیم نے تمدن اور تہذیب کو جمع کرنے کی کوشش کی مگر ایک عرصہ کے بعد وہ ناکام ہو گئی کیونکہ اس کا فیصلہ اس بارہ میں آخری فیصلہ نہ تھا۔مسیحؑ نے تبدیلی کرنی چاہی مگر وہ تبدیلی اس بغاوت کے طوفان کے آگے خس و خاشاک کی طرح اُڑ گئی جو اُس وقت انسانوں کے دماغ میں پیدا ہو رہا تھا۔مسیحؑ کی تعلیم کا صرف یہی حصہ باقی رہ گیا جو انجیل نے اس صورت میں پیش کیا ہے کہ شریعت ایک لعنت ہے۔حالانکہ ہر سمجھ دار انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ فقرہ اپنی موجودہ شکل میں خود ایک بہت بڑی لعنت ہے جس نے انسان کو خد اتعالیٰ سے برگشتہ اور اس کی راہنمائی سے آزاد کر دیاہے۔پس ابھی مقامِ ارتقاء باقی تھا۔انسانی تہذیب اور تمدن کے سابق تغیرات اس بات کی طرف اشارہ کررہے