دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 389

ہے تو تم اپنے رواج کے مطابق اُسے مار لیا کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہو اکہ بجائے اس کے کہ کسی اشد استثنائی صورت میں مرد اپنی عورتوں کو سزا دیتے، اُنہوں نے وہی پرانا عربی طریق جاری کر لیا۔عورتوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس آکر شکایت کی تو آپ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا، جو لوگ اپنی عورتوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے یا اُنہیں مارتے ہیں میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ وہ خد اکی نظر میں اچھے نہیں سمجھے جاتے۔۴۸۰؎ اِس کے بعد عورتوں کے حق قائم ہوئے اور عورت نے محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی سے پہلی دفعہ آزادی کا سانس لیا۔معاویہ بن ھندہ القشیری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! بیوی کا حق ہم پر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا جو خدا تمہیں کھانے کے لئے دے وہ اُسے کھلائو اور جو خدا تمہیں پہننے کے لئے دے وہ اُسے پہنائو اور اُس کو تھپڑ نہ مارو اور گالیاں نہ دو اور اُسے گھر سے نہ نکالو۔۴۸۱؎ آپ کو عورتوں کے جذبات کا اس قدر احساس تھا کہ آپ ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے کہ جو لوگ باہر سفر کے لئے جاتے ہیں اُنہیں جلدی گھر واپس آنا چاہئے تاکہ ان کے بال بچوں کو تکلیف نہ ہو۔چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص اپنی اُن ضرورتوں کو پورا کر لے جن کے لئے اسے سفر کرنا پڑا تھا تو اُسے چاہئے اپنے رشتہ داروں کا خیال کر کے جلدی واپس آئے۔۴۸۲؎ آپ کا اپنا طریق یہ تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تھے تو دن کے وقت شہرمیں داخل ہوتے تھے۔اگر رات آجاتی تھی تو شہر کے باہر ہی ڈیرہ ڈال دیتے تھے اور صبح کے وقت شہر میں داخل ہوتے تھے اور ہمیشہ اپنے اصحابؓ کو منع فرماتے تھے کہ اس طرح اچانک گھر میں آکر اپنے اہل و عیال کو تنگ نہیں کرنا چاہئے۔۴۸۳؎ اس میں آپ کے مدِنظر یہ حکمت تھی کہ عورت اور مرد کے تعلقات جذباتی ہوتے ہیں مرد کی غیر حاضری میںاگر عورت نے اپنے لباس اور جسم کی صفائی کا پورا خیال نہ رکھا ہو اور خاوند اچانک گھر میں آداخل ہو تو ڈر ہوتا ہے کہ وہ محبت کے جذبات جو مرد عورت کے درمیان ہوتے ہیں اُن کو ٹھیس نہ لگ جائے۔پس آپ نے ہدایت فرما دی کہ انسان جب بھی سفر سے واپس