دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 388

دیتے۔ایک دفعہ ایسے ہی موقع پر جبکہ سپاہیوں نے اپنے گھوڑوں کی باگیں اور اُونٹوں کی نکیلیں اُٹھا لیں آپ نے فرمایا۔رِفْقًا بِالْقَوَ ارِیْرَ ارے کیا کر تے ہو؟ عورتیں بھی ساتھ ہیں اگر تم اس طرح اُونٹ دَوڑائو گے تو شیشے چکنا چور ہو جائیں گے۔۴۷۷؎ ایک دفعہ جنگ کے میدان میںکسی گڑ بڑ کی وجہ سے سواریاں بدک گئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھوڑے سے گر گئے اور بعض مستورات بھی گر گئیں۔ایک صحابی جن کا اُونٹ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرتے ہوئے دیکھ کر بے تاب ہو گئے اور کود کر یہ کہتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دَوڑے ’’ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میںمر جائوں آپ بچے رہیں‘‘۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں رِکاب میں اُلجھے ہوئے تھے آپ نے جلدی جلدی اپنے آپ کو آزاد کیا اور اُس صحابی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا’’ مجھے چھوڑو اور عورتوں کی طرف جائو‘‘۔۴۷۸؎ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے اُس وقت سب مسلمانوں کو جمع کر کے جو وصیتیں کیں اُن میں ایک بات یہ بھی تھی کہ میں تم کو اپنی آخری وصیت یہ کرتا ہوں کہ عورتوں سے ہمیشہ حسنِ سلوک کرتے رہنا۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے جس کے گھر میں لڑکیاں ہوں اور وہ اُن کو تعلیم دلائے اور اُن کی اچھی تربیت کرے خد اتعالیٰ قیامت کے دن اُس پر دوزخ کو حرام کر دے گا۔۴۷۹؎ عربوں میں رواج تھا کہ اگر عورتوں سے کوئی غلطی ہو جاتی تو اُنہیں مار پیٹ لیا کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا۔عورتیں خدا کی لونڈیاں ہیں تمہاری لونڈیاں نہیں ان کو مت مارا کرو۔مگر عورتوں کی چونکہ ابھی تک پوری تربیت نہیں ہوئی تھی اُنہوں نے دلیری میں آکر مردوں کا مقابلہ شروع کر دیا اور گھروں میں فساد ہونے لگے۔آخر حضرت عمرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ نے ہمیں عورتوں کو مارنے سے روک دیا اور وہ بڑی بڑی دلیریاں کرتی ہیں۔ایسی صورت میں تو ہمیں اجازت ملنی چاہئے کہ ہم اُنہیں مار پیٹ لیا کریں۔چونکہ ابھی تک عورتوں کے متعلق تفصیل سے احکام نازل نہیں ہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر کوئی عورت حد سے بڑھتی