دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 384

فرمایا فاطمہ! میری بیٹی! میںتم کو لونڈی یا غلام رکھنے سے زیادہ قیمتی چیز بتاتا ہوں جب تم سونے لگو تو تم تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلَّٰہِ تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور چونتیس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ لیا کرو۔یہ تمہارے لئے لونڈی اور غلام سے زیادہ بہتر ہو گا۔۴۶۵؎ ایک دفعہ کچھ اموال آئے اور آپ نے اُن کو تقسیم کر دیا۔تقسیم کرتے وقت ایک دینار آپ کے ہاتھ سے گر گیا اور کسی چیز کی اوٹ میں آگیا۔مال تقسیم کرتے کرتے آپ کے ذہن سے وہ بات اُترگئی سب مال تقسیم کرنے کے بعد آپ مسجد میں آئے اور نماز پڑھائی۔نماز پڑھانے کے بعد بجائے اس کے کہ ذکرِ الٰہی میں مشغول ہو جاتے جیسا کہ آپ کی عادت تھی یا لوگوں کو اپنی ضروریات کے پیش کرنے یا مسائل پوچھنے کا موقع دیتے آپ تیزی کے ساتھ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ایسی تیزی کے ساتھ کہ بعض صحابہ کہتے ہیں کہ ہماری گردنوں پر کودتے ہوئے آپ اندر کی طرف چلے گئے اور دینار تلاش کیا پھر واپس تشریف لائے اور باہر آکر وہ دینار کسی مستحق کو دیتے ہوئے فرمایا یہ دینار گر گیا تھا اور مجھے بھول گیا تھا مجھے نماز پڑھاتے ہوئے یاد آیا اور میرا دل اِس خیال سے بے چین ہو گیا کہ اگر میری موت آگئی اور لوگوں کا یہ مال میرے گھر میں ہی پڑا رہا تو میں خدا کو کیا جواب دوں گا اس لئے میں فوراً اندر گیا اور جا کر یہ مال نکال لایا۔۴۶۶؎ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ نے صدقہ کو اپنی اولاد کے لئے حرام کر دیا تا ایسا نہ ہو کہ آپ کے اعزاز اور احترام کی وجہ سے صدقہ کے اموال لوگ آپؐ کی اولاد میں ہی تقسیم کر دیا کریں اور دوسرے غریب محروم رہ جائیں۔ایک دفعہ آپ کے سامنے صدقہ کی کچھ کھجوریں لائی گئیں۔حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو آپ کے نواسے تھے اور جن کی عمر اُس وقت دو اڑھائی سال کی تھی اُس وقت آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اُنہوں نے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً انگلی ڈال کر اُن کے منہ سے کھجور نکالی اور فرمایا یہ ہمارا حق نہیں۔یہ خدا کے غریب بندوں کا حق ہے۔۴۶۷؎ غلاموں سے حسنِ سلوک غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا آپ ہمیشہ وعظ فرماتے رہتے۔آپ کا یہ ارشاد تھا کہ اگر کسی شخص کے پاس غلام ہو اور وہ اس کو آزاد کرنے کی توفیق نہ رکھتا ہو تو اگر وہ کسی وقت غصہ میں اُس کو مار بیٹھے یا