دیباچہ تفسیر القرآن — Page 383
آدمی کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سِوا اپنی محبت کا اظہار اور کون کر سکتا ہے۔یہ معلوم کر کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے ساتھ اظہارِ محبت کر رہے ہیں اس نے اپنا مٹی آلود اور پسینہ سے بھرا ہوا جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کے ساتھ ملنا شروع کیا۔شاید وہ یہ دیکھتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کا حوصلہ کتنا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے اور اُس کو اِس حرکت سے منع نہ کیاجب وہ پیٹ بھر کر آپ کے کپڑوں کو خراب کر چکا تو آپ نے مذاقاً فرمایا میرے پاس ایک غلام ہے کوئی اس کا خریدار ہے؟ آپ کے اِس فقرہ نے اُس کو عرش سے فرش پر لا کر پھینک دیا اور اِس بات کی طرف اس کی توجہ پھرا دی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کون مجھ کو قدر کی نگاہوں سے دیکھ سکتا ہے اورمیں کس قابل ہوںکہ غلام کر کے ہی کوئی مجھے خریدے۔اس نے افسردگی سے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرا خریدار دنیا میں کوئی نہیں۔آپ نے فرمایا نہیں! نہیں! ایسا مت کہو تمہاری قیمت خد اکی نظر میں بہت زیادہ ہے۔۴۶۳؎ آپ نہ صرف غرباء کا خیال رکھتے تھے بلکہ اپنی جماعت کو بھی غرباء کا خیال رکھنے کی ہمیشہ نصیحت فر ماتے رہتے تھے۔چنانچہ حضرت موسیٰ اشعریؓ کی روایت ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی حاجتمند آتاتو آپ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے فرماتے کہ آپ بھی اس کی سفارش کریں تاکہ نیک کام کی سفارش کے ثواب میں شامل ہو جائیں۔۴۶۴؎ اس طرح آپ ایک طرف تو اپنی جماعت کے لوگوں کے دلوں میں غرباء کی امداد کا احساس پیدا کرتے تھے اور دوسری طرف خود سوالی کے دل میں دوسرے مسلمانوں کی نسبت محبت کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔غرباء کے مالوں کی حفاظت اسلام کی فتح کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے اموال آتے جنہیں آپ مستحقین میں تقسیم کر دیتے۔ایک دفعہ بہت سا مال آیا تو آپ کی بیٹی فاطمہ ؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ دیکھئے میرے ہاتھ چکی پیس پیس کر زخمی ہو گئے ہیں اگر آپ مجھے ان اموال میں سے کوئی لونڈی یا غلام دے دیں تو وہ میرا ہاتھ بٹا دیا کریں۔آپ نے