دیباچہ تفسیر القرآن — Page 381
آپ فرمایا کرتے تھے بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے سر کے بال پراگندہ ہوتے ہیں اور اُن کے جسموں پر مٹی پڑی ہوتی ہے اگر وہ لوگوں سے ملنے جائیں تو لوگ اپنے دروازے بند کر لیتے ہیں لیکن ایسے لوگ اگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا بیٹھیں تو خدا تعالیٰ کو اُن کا اِتنا احترام ہوتا ہے کہ وہ ان کی قسم پوری کر کے چھوڑتا ہے۔۴۵۶؎ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ غریب صحابہؓ جو کسی وقت غلام ہوتے تھے بیٹھے ہوئے تھے۔ابوسفیان اُن کے سامنے سے گزرے تو اُنہوں نے اس کے سامنے اسلام کی جیت کا کچھ ذکر کیا۔حضرت ابوبکرؓ سن رہے تھے اُنہیں یہ بات بُری معلوم ہوئی کہ قریش کے سردار کی ہتک کی گئی ہے اور اُنہوں نے اُن لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کیا تم قریش کے سردار اور اُن کے افسر کی ہتک کرتے ہو!! پھر حضرت ابوبکرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر یہی بات شکایتاً بیان کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکرؓ !شاید تم نے اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کو ناراض کر دیا ہے اگر ایسا ہو ا تو یاد رکھو کہ تمہارا رب بھی تم سے ناراض ہو جائے گا۔حضرت ابوبکرؓ اُسی وقت اُٹھے اور اُٹھ کر اُن لوگوں کے پاس واپس آئے اور کہا اے میرے بھائیو!کیا میری بات سے تم ناراض ہو گئے ہو؟ اِس پر اُن غلاموں نے جواب دیا اے ہمارے بھائی!ہم ناراض نہیں ہوئے خد اآپ کا قصور معاف کرے۔۴۵۷؎ مگرجہاں آپ غرباء کی عزت اور ان کے احترام کوقائم کرتے اور اُن کی ضرورتیں پوری فرماتے تھے وہاں آپ اُن کو عزتِ نفس کا بھی سبق دیتے تھے اور سوال کرنے سے منع فرماتے تھے۔چنانچہ آپ ہمیشہ فرماتے تھے کہ مسکین وہ نہیں جس کو ایک کھجور یا دو کھجوریں یا ایک لقمہ یاد و لقمے تسلی دے دیں۔مسکین وہ ہے کہ خواہ کتنی ہی تکلیفوں سے گزرے سوال نہ کرے۔۴۵۸؎ آپ اپنی جماعت کو یہ بھی نصیحت کرتے رہتے تھے کہ ہر وہ دعوت جس میں غرباء کو نہ بلائیں جائیں وہ بدترین دعوت ہے۔۴۵۹؎ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ایک غریب عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اُس کی دو بیٹیاں بھی تھیں اُس وقت ہمارے گھر میںسوائے ایک کھجور کے کچھ نہ تھا میں نے وہی کھجور اُس کو دے دی۔اُس نے وہ کھجور آدھی آدھی کر کے دونوں لڑکیوں کو کھلا دی اور پھر اُٹھ کر