دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 374

بات یوں ہے‘‘۔حضرت عائشہؓ یہ بات سن کو ہنس پڑیں اور آپ کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آپ بات کو ٹھیک سمجھے ہیں۔۴۴۵؎ حضرت خدیجہؓ جو آپ کی بڑی بیوی تھیں اور جنہوں نے آپ کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی تھیں اُن کی وفات کے بعد آپ کی شادی میں جوان بیویاں آئیں لیکن اس کے باوجود آپ نے حضرت خدیجہؓ کے تعلق کو نہ بھلایا۔حضرت خدیجہؓ کی سہیلیاں جب بھی آتیں آپ اُن کے استقبال کے لئے کھڑے ہو جاتے۔۴۴۶؎ حضرت خدیجہؓ کی بنی ہوئی کوئی چیز اگر آپ کے سامنے آجاتی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔بدر کی جنگ میں جب آپ کے ایک داماد بھی قید ہو کر آئے تو آزادی کا فدیہ ادا کرنے کے لئے کوئی مال اُن کے پاس نہیں تھا۔اُن کی بیوی یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے جب دیکھا کہ میرے خاوند کے بچانے کے لئے اور کوئی مال نہیں تو اپنی والدہ کی آخری یادگار ایک ہار اُن کے پاس تھا وہ اُنہوںنے اپنے خاوند کے فدیہ کے طور پر مدینہ بھجوا دیا۔جب وہ ہار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے اُسے پہچان لیا۔آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے صحابہؓ سے فرمایا۔میں آپ لوگوں کو حکم تو نہیں دیتا کیونکہ مجھے ایسا حکم دینے کا کوئی حق نہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ہار زینب کے پاس اُس کی ماں کی آخری یادگار ہے اگر آپ خوشی سے ایسا کرسکتے ہوں تو میں سفارش کرتا ہوں کہ بیٹی اُس کی ماں کی آخری یادگار سے محروم نہ کی جائے۔صحابہؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہمارے لئے اِس سے زیادہ خوشی کا کیا موجب ہو سکتا ہے اور اُنہوں نے وہ ہار حضرت زینبؓ کو واپس کر دیا۔۴۴۷؎ حضرت خدیجہؓ کی قربانی کا آپ کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ آپ دوسری بیویوں کے سامنے اکثر اُن کی نیکی کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ایک دن اِسی طرح آپ حضرت عائشہؓ کے سامنے حضرت خدیجہؓ کی کوئی نیکی بیان کر رہے تھے کہ حضرت عائشہؓ نے چڑ کر کہا۔یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اب اُس بڑھیا کا ذکر جانے بھی دیں۔اللہ تعالیٰ نے اُس سے بہتر جوان اور خوبصورت عورتیں آپ کو دی ہیں۔یہ بات سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رقت طاری ہوگئی اور آپ نے