دیباچہ تفسیر القرآن — Page 363
نے میری اُ مت کے مردوں کے لئے پہننا منع فرمایا ہے۔عورتوں کو بیشک ریشمی کپڑے اور زیور پہننے کی اجازت تھی اس بارہ میں آپ نصیحت کرتے رہتے تھے کہ غلو نہ کیا جائے۔ایک دفعہ غرباء کے لئے آپ نے چند ہ کیا۔ایک عورت نے ایک کڑا اُتار کر آپ کے آگے رکھ دیا۔آپ نے فرمایا کیا دوسرا ہاتھ دوزخ سے بچنے کا مستحق نہیں؟ اُس عورت نے دوسرا کڑا اُتار کر بھی غرباء کے لئے دے دیا۔آپ کی بیویوں کے زیورات نہ ہونے کے برابر تھے صحابیات بھی آپ کی تعلیم پر عمل کرکے زیور بنانے سے احتراز کرتی تھیں۔آپ قرآنی تعلیم کے مطابق فرماتے تھے کہ مال کا جمع رکھنا غریبوں کے حقوق تلف کر دیتا ہے اس لئے سونے چاندی کو کسی صورت میں گھروں میں جمع کر لینا قوم کی اقتصادی حالت کو تباہ کر نے والا ہے اور گناہ ہے۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے آپ کوتحریک کی کہ اب بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف سے سفیر آنے لگے ہیں آپ ایک قیمتی جُبّہ لے لیں اور ایسے موقعوں پر استعمال فرمایا کریں۔آپ حضرت عمرؓ کی اِس بات کو سن کر بہت خفاہوئے اور فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے ان باتوں کے لئے پیدا نہیں کیا۔یہ مداہنت کی باتیں ہیں۔۴۱۷؎ ہمار اجیسا لباس ہے ہم اس کے ساتھ دنیا سے ملیں گے۔ایک دفعہ آپ کے پاس ایک ریشمی جُبّہ لایا گیا۔تو آپ نے حضرت عمرؓ کو تحفہ کے طور پر دے دیا۔دوسرے دن آپ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ اُس کو پہنے پھر رہے تھے۔آپ نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔جب حضرت عمرؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! آپ ہی نے تو تحفہ دیا تھا۔تو آپ نے فرمایا ہر چیز اپنے ہی استعمال کے لئے تو نہیں ہوتی۔یعنی یہ جُبہّ چونکہ ریشم کا تھا آپ کو چاہئے تھا کہ یہ اپنی بیوی کودے دیتے یا اپنی بیٹی کو دے دیتے یا کسی اَور استعمال میں لے آتے۔اس کو اپنے لباس کے طو رپر استعمال کرنا درست نہیں تھا۔۴۱۸؎ بستر میں سادگی آپ کابستر بھی نہایت سادہ ہوتا تھا۔بِالعموم ایک چمڑا یا اُونٹ کے بالوں کا ایک کپڑا ہوتا تھا۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہمارا بستر اتنا چھوٹا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو عبادت کے لئے اُٹھتے تو میں ایک طرف ہو کر لیٹ جاتی تھی اور بوجہ اس کے کہ بستر چھوٹا ہوتا تھا ، جب آپ عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے تو میں