دیباچہ تفسیر القرآن — Page 360
میرے دل میںیہ خیال نہ گزرے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا کام بھی ہے جس کی تعریف کی ضرورت نہیںیا جو تعریف کا مستحق نہیں۔اے ہمارے ربّ! ہمیں ایسا ہی بنا دے۔بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپ کبھی ان الفاظ میں دعا کرتے تھے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَفَانَا وَاَرْوَانَا غَیْرَمُکْفٍی وَلاَ مَکْفُوْرٍ۴۱۰؎ یعنی سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے ہماری بھوک اور پیاس دور کی۔ہمارا دل اُس کی تعریف سے کبھی نہ بھرے اور ہم اُس کی کبھی ناشکر ی نہ کریں۔آپ ہمیشہ اپنے صحابہ کونصیحت فرمایا کرتے تھے کہ پیٹ بھرنے سے پہلے کھانا چھوڑ دو اور فرماتے تھے ایک انسان کا کھانا دو انسانوں کے لئے کافی ہوناچاہئے۔۴۱۱؎ جب کبھی آپ کے گھر میں کوئی اچھی چیز پکتی تو آپ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اپنے ہمسایوں کا بھی خیال رکھو۔۴۱۲؎ اسی طرح اپنے ہمسایوں کے گھروں میں آپ اکثر ہدیہ بجھواتے رہتے تھے۔۴۱۳؎ آپ اپنے مسکین صحابہؓ کی شکلوں سے ہمیشہ یہ معلوم کرتے رہتے تھے کہ ان میں سے کوئی بھوکا تو نہیں۔حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ کئی دن فاقہ سے رہے۔ا یک دن جب سات وقت فاقہ سے گزر گئے تو وہ بے تاب ہو کر مسجد کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔اتفاقاً حضرت ابوبکرؓ وہاں سے گزرے تو اُنہوں نے ان سے ایک ایسی آیت کا مطلب پوچھا جس میں غریبو ں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے۔حضرت ابوبکرؓ نے ان کی بات سے سمجھا کہ شاید اس آیت کے معنی ان کومعلوم نہیں اور وہ اس آیت کے معنی بیان کر کے آگے چل دئیے۔حضرت ابوہریرہؓ جب لوگوں کے سامنے یہ روایت بیا ن کرتے تو غصہ سے کہا کرتے کہ کیا ابوبکر مجھ سے زیادہ قرآن جانتا تھا!! میں نے تو اِس لئے آیت پوچھی تھی کہ ان کو اس آیت کے مضمون کا خیال آجائے اور مجھے کھانا کھلاد یں۔اتنے میں حضرت عمرؓ وہاں سے گزرے۔ا بوہریرہؓ کہتے ہیں میں نے ان سے بھی اس آیت کا مفہوم پوچھا۔حضرت عمرؓ نے بھی اس آیت کا مطلب بیان کر دیا اور آگے چل دئیے۔صحابہؓ سوال کو سخت ناپسند کرتے تھے۔جب ابوہریرہؓ نے دیکھا کہ بے مانگے کھانا ملنے کی کوئی صورت نہیں تو وہ کہتے ہیں میں بالکل نڈھال ہو کر گرنے لگا کیونکہ اب زیادہ صبر کی مجھ میں طاقت نہیں تھی مگر میں نے ابھی دروازہ سے منہ نہیں موڑا تھا کہ میرے کان میں