دیباچہ تفسیر القرآن — Page 346
کہ نماز کے بہانہ سے وہاں جمع ہوا کر یں گے اور منافقانہ مشورے کیا کریں گے، وہ گرا دی جائے اور اُن کو مجبور کیا جائے کہ وہ مسلمانوں کی دوسری مسجدوں میں نماز پڑھا کریں، مگر باوجود اتنی بڑی شرارت کے ان کو کوئی بدنی یا مالی سزا نہ دی گئی۔تبوک سے واپسی کے بعد طائف کے لوگوں نے بھی آکر اطاعت قبول کر لی اورا س کے بعد عرب کے متفرق قبائل نے باری باری آکر اسلامی حکومت میں داخلہ کی اجازت چاہی اور تھوڑے ہی عرصہ میں سارے عرب پر اسلامی جھنڈا لہرانے لگا۔حجۃ الوداع اور آنحضرت ﷺکا ایک خطبہ نویں سال ہجری میں آپ نے مکہ کا حج فرمایا اور اُس دن آپ پر قرآن شریف کی یہ مشہور آیت نازل ہوئی کہ۳۸۰؎ یعنی آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور جتنے روحانی انعامات خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر نازل ہو سکتے ہیں وہ سب میں نے تمہاری اُمت کو بخش دئیے ہیں اور اِس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ تمہارا دین خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مبنی ہو۔یہ آیت آپ نے مزدلفہ کے میدان میں جبکہ حج کے لئے لوگ جمع ہوتے ہیں سب لوگوں کے سامنے بہ آوازِ بلند پڑھ کر سنائی۔مزدلفہ سے لَوٹنے پر حج کے قواعد کے مطابق آپ منیٰ میں ٹھہرے اور گیارھویں ذوالحجہ کو آپ نے تمام مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی جس کا مضمون یہ تھا۔’’ اے لوگو! میری بات کو اچھی طرح سنو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اِس سال کے بعد کبھی بھی میں تم لوگوں کے درمیان اِس میدان میں کھڑے ہو کر کوئی تقریر کروں گا۔تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں کو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملہ سے قیامت تک کے لئے محفوظ قرار دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے وراثت میں اُس کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔کوئی وصیت ایسی جائز نہیں جو دوسرے وارث کے حق کو نقصان پہنچائے۔جو بچہ جس کے گھر میں پیدا ہو وہ اُس کا سمجھا جائے گا اور اگر کوئی بدکاری کی