دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 341

<mark>ہوا</mark>زؔن سے فارغ ہو <mark>کر</mark> محمد رسول <mark>اللہ</mark> <mark>صلی</mark> <mark>اللہ</mark> <mark>علیہ</mark> <mark>وسلم</mark> مدینہ میں تشریف <mark>لے</mark> گئے۔یہ مدینہ والوں کے لئے پھر ایک نیا خوشی کا دن تھا۔ایک دفعہ خدا کا رسول مکہ کے <mark>لوگ</mark>وں کے ظلم سے تنگ آ<mark>کر</mark> مدینہ کی طرف روانہ <mark>ہوا</mark> تھا <mark>اورا</mark>ٓج خدا کا رسول مکہ فتح <mark>کر</mark>نے کے بعد اپنی خوشی سے اور اپنے عہد کو نبھانے کے لئے دوبارہ مدینہ میں داخل ہو رہا تھا۔غزوۂ تبوک جب رسول <mark>اللہ</mark> <mark>صلی</mark> <mark>اللہ</mark> <mark>علیہ</mark> <mark>وسلم</mark> نے مکہ فتح کیا تو ابو عامر مدنی جو خزرج قبیلہ میں سے تھا اور یہودیوں اور عیسائیوں سے میل ملاقات کی وجہ سے ذ<mark>کر</mark>و وظائف <mark>کر</mark>نے کا عادی تھا اور <mark>اِس</mark> کی وجہ سے <mark>لوگ</mark> اس کو راہب <mark>کہتے</mark> تھے مگر مذہباً عیسائی نہیں تھا۔یہ شخص رسول <mark>اللہ</mark> <mark>صلی</mark> <mark>اللہ</mark> <mark>علیہ</mark> <mark>وسلم</mark> کے مدینہ میں پہنچ جانے کے بعد مکہ کی طرف بھا گ گیا تھا۔جب مکہ بھی فتح ہو گیا تو یہ سوچنے لگا کہ اب مجھے اسلام کے خلاف شورش پیدا <mark>کر</mark>نے کے لئے کوئی اور تدبیر <mark>کر</mark>نی چاہئے۔آخر اس نے اپنا نام اور طرز بدلی اور مدینہ کے پاس قبا نامی گائوں میں جا <mark>کر</mark> رہنا شروع کیا۔سالہا سال باہر رہنے کی وجہ سے اور کچھ شکل اور لباس میں تبدیلی <mark>کر</mark> لینے کی وجہ سے مدینہ کے <mark>لوگ</mark>وں نے عام طور پر اس کو نہ پہچانا۔صرف وہی منافق <mark>اِس</mark> کو جانتے تھے جن کے ساتھ <mark>اِس</mark> نے اپنا <mark>تعلق</mark> پیدا <mark>کر</mark> لیا تھا۔اس نے مدینہ کے منافقوں کے ساتھ مل <mark>کر</mark> یہ تجویز کی کہ میں شام میں جا <mark>کر</mark> عیسائی حکومت اور عرب عیسائی قبائل کو بھڑکاتا ہوں اور اُن کو مدینہ پر حملہ <mark>کر</mark>نے کی تحریک <mark><mark>کر</mark>تا</mark> ہوں۔اِدھر تم یہ مشہور <mark>کر</mark>نا شروع <mark>کر</mark> دو کہ شامی فوجیں مدینہ پر حملہ <mark>کر</mark> رہی ہیں۔اگر میری سکیم کامیاب ہو گئی تو پھر بھی ان دونوں کی مٹھ بھیڑ ہو <mark>جائے</mark> گی اور اگر میری سکیم کامیاب نہ ہوئی توان افواہوں کی وجہ سے مسلمان شاید شام پر جا <mark>کر</mark> خود حملہ <mark>کر</mark> دیں اور اس <mark>طرح</mark> قیصر کی حکومت اور ان میں لڑائی شروع ہو <mark>جائے</mark> گی اور ہمارا کام بن <mark>جائے</mark> گا۔چنانچہ یہ تحریک <mark>کر</mark> کے یہ شخص شام کی طرف گیا اور مدینہ کے منافقوں نے روزانہ مدینہ میں یہ خبریں مشہور <mark>کر</mark>نی شروع <mark>کر</mark> دیں کہ فلاں قافلہ ہمیں ملا تھا اور <mark>اُس</mark> نے بتایا تھا کہ شامی لش<mark>کر</mark> مدینہ پر حملہ <mark>کر</mark>نے کی تیاری <mark>کر</mark> رہا ہے۔دوسرے دن پھر کہدیتے تھے کہ فلاں قافلہ کے <mark>لوگ</mark> ہمیں م<mark>لے</mark> تھے اور اُنہوں نے کہا تھا کہ مدینہ پر شامی لش<mark>کر</mark> چڑھائی <mark>کر</mark>نے والا ہے۔یہ خبریں اتنی شدت سے پھیلنی شروع ہوئیں کہ رسول <mark>اللہ</mark> <mark>صلی</mark> <mark>اللہ</mark> <mark>علیہ</mark> <mark>وسلم</mark> نے مناسب سمجھا کہ آپ اسلامی لش<mark>کر</mark> <mark>لے</mark> <mark>کر</mark> خود