دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 336

بے تحاشا زور لگاتے تھے کہ کسی طرح ہماری سواری کے جانور میدانِ جنگ کی طر ف آئیں لیکن دو ہزار اُونٹوں کے بھاگنے کی وجہ سے وہ ایسے بِدک گئے تھے کہ ہمارے ہاتھ باگیں کھینچتے کھینچتے زخمی ہو ہو جاتے تھے مگر اُونٹ اور گھوڑے واپس لوٹنے کا نام نہیں لیتے تھے۔بعض دفعہ ہم باگیں اِس زور سے کھینچتے تھے کہ مرکب کا سر اُس کی پیٹھ سے لگ جاتا تھا۔مگر پھر جب ایڑی دے کر ہم اُس کو پیچھے میدانِ جنگ کی طرف موڑتے تو وہ بجائے پیچھے لَوٹنے کے اور بھی تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بھاگتا۔ہمارا دل دھڑک رہا تھا کہ پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہو گا مگر ہم بالکل بے بس تھے۔اِدھر تو صحابہ کی یہ حالت تھی اور اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف چند آدمیوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں کھڑے تھے۔دائیں اور بائیں اور سامنے تینوں طرف سے تیر پڑ رہے تھے اور پیچھے کی طرف صرف ایک تنگ راستہ تھا جس میں سے ایک وقت میں صرف چند آدمی ہی گزر سکتے تھے مگر پھر بھی سوائے اُس راستہ کے اور کوئی نجات کی راہ نہیں تھی۔اُس وقت حضرت ابوبکرؓ نے اپنی سواری سے اُتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی باگ پکڑ لی اور عرض کی یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! تھوڑی دیر کے لئے پیچھے ہٹ آئیں یہاں تک کہ اسلامی لشکر جمع ہوجائے۔آپ نے فرمایا ابوبکر! میری خچر کی باگ چھوڑ دو اور پھر خچر کو ایڑی لگاتے ہوئے آپ نے اُس تنگ راستہ پر آگے بڑھنا شروع کیا جس کے دائیں بائیں کمین گاہوں میں بیٹھے ہوئے سپاہی تیر اندازی کر رہے تھے اور فرمایا۔اَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب۳۷۲؎ میں خدا کا نبی ہوں میں جھوٹا نہیں ہوں۔مگر یہ بھی یاد رکھو کہ اِس وقت خطرہ کے مقام پر کھڑے ہوئے بھی جو میں دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ میرے اندر خدائی کا کوئی مادہ پایا جاتا ہے بلکہ میں انسان ہی ہوں اور عبدالمطلب کا پوتا ہوں۔پھر آپ نے حضرت عباسؓ کو جن کی آواز بہت بلند تھی آگے بُلایا اور فرمایا۔عباسؓ! بلند آواز سے پکار کر کہو کہ اے وہ صحابہ! جنہوں نے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اے وہ لوگو جو سورۂ بقرہ کے زمانہ سے مسلمان ہو! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔حضرت عباسؓ نے نہایت ہی بلند آواز سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سنایا، تو اُس وقت صحابہؓ کی جو حالت ہوئی اُس کا اندازہ