دیباچہ تفسیر القرآن — Page 323
ساتھ ساتھ یہ اعلان کرتے جائو کہ جو شخص ابی رویحہؓ کے جھنڈے کے نیچے آجائے گا اُس کو امن دیا جائے گا۔۳۵۳؎ اِس حکم میں کیا ہی لطیف حکمت تھی۔مکہ کے لوگ بلالؓ کے پیروں میں رسّی ڈال کر اُس کو گلیوں میں کھینچا کرتے تھے، مکہ کی گلیاں، مکہ کے میدان بلالؓ کے لئے امن کی جگہ نہیںتھے بلکہ عذاب اور تذلیل اور تضحیک کی جگہ تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ بلالؓ کا دل آج انتقام کی طرف بار بار مائل ہوتا ہو گا اِس وفادار ساتھی کا انتقام لینا بھی نہایت ضروری ہے۔مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارا انتقام اسلام کی شان کے مطابق ہو۔پس آپ نے بلالؓ کا انتقام اِس طرح نہ لیا کہ تلوار کے ساتھ اُس کے دشمنوں کی گردنیں کاٹ دی جائیں بلکہ اس کے بھائی کے ہاتھ میں ایک بڑا جھنڈا دے کر کھڑا کر دیا اور بلالؓ کو اِس غرض کے لئے مقرر کر دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ جو کوئی میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے آکر کھڑا ہو گا اُسے امن دیا جائے گا۔کیسا شاندار یہ انتقام تھا، کیساحسین یہ انتقام تھا۔جب بلالؓ بلند آواز سے یہ اعلان کرتا ہو گا کہ اے مکہ والو! آئو میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو جائو تمہیں امن دیا جائے گا تو اُس کا دل خود ہی انتقام کے جذبات سے خالی ہوتا جاتا ہو گا اور اُس نے محسوس کر لیا ہوگا کہ جو انتقام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے تجویز کیا ہے اس سے زیادہ شاندار اور اس سے زیادہ حسین انتقام میرے لئے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔جب لشکر مکہ کی طرف بڑھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباسؓ کو حکم دیا کہ کسی سڑک کے کونے پر ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو لے کر کھڑے ہو جائو تاکہ وہ اسلامی لشکر او ر اس کی فدائیت کو دیکھ سکیں۔حضرت عباسؓ نے ایسا ہی کیا۔ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سے یکے بعد دیگرے عرب کے وہ قبائل گزرنے شروع ہوئے جن کی امداد پر مکہ بھروسہ کر رہا تھا، مگر آج وہ کفر کا جھنڈا نہیں لہرا رہے تھے آج وہ اسلام کا جھنڈا لہرا رہے تھے اورا ن کی زبان پرخدائے قادر کی توحید کا اعلان تھا۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان لینیکیلئے آگے نہیں بڑھ رہے تھے جیساکہ مکہ والے امید کرتے تھے بلکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لئے تیار تھے اور ان کی انتہائی خواہش