دیباچہ تفسیر القرآن — Page 306
بارہ میں دعا کی ہے۔پس مسلمانوں میں اسلامی طور و طریق جاری کرو اور ان کے اموال کی حفاظت کرو اور چار بیویوں سے زیادہ کسی کو اپنے گھر میں رکھنے کی اجازت نہ دو اور مسلمان ہونے والوں سے جو گناہ پہلے ہو چکے ہیں وہ انہیں معاف کئے جائیں اور جب تک نیکی پر قائم رہو گے تمہیں اپنی حکو مت سے معزول نہیں کیا جائے گا اور جو یہودی یا مجوس ہیں ان پر صرف ایک ٹیکس مقرر ہے اور کوئی مطالبہ ان سے نہ کرنا۔۳۳۸؎ اس کے علاوہ آپ نے عمان کے بادشاہ اور یمامہ کے سردار اور غسان کے بادشاہ اور یمن کے قبیلہ بنی نہد کے سردار اور یمن کے قبیلہ ہمدان کے سردار اور بنی علیم کے سردار اور حضرمی قبیلہ کے سردار کی طرف بھی خطوط لکھے۔جن میں سے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے۔اِن خطوط کا لکھنا بتاتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ پر کیسا کامل یقین رکھتے تھے اور کس طرح شروع سے ہی آپ کو یہ یقین تھا کہ آپ کسی ایک قوم کی طرف نبی بنا کر نہیں بھیجے گئے بلکہ آپ ساری اقوام کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جن بادشاہوں اور رئیسوں کو خط لکھے گئے تھے اِن میں سے بعض اسلام لے آئے۔بعضوں نے ادب اور احترام کے ساتھ خط تو قبول کر لئے لیکن اسلام نہ لائے۔بعضوں نے معمولی شرافت دکھائی اور بعضوں نے خود پسندی اور کبر کا نمونہ دکھایا لیکن اِس میں بھی کوئی شبہ نہیں اور دنیا کی تاریخ اس پرشاہد ہے کہ اُن میں سے ہر بادشاہ اور قوم کے ساتھ ویساہی معا ملہ کیا گیا جیساکہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوں کے ساتھ معاملہ کیا تھا۔قلعہ خیبر کی تسخیر جیساکہ اُوپر بیان کیاجا چکا ہے یہودی اور کفارِ عرب مسلمانوں کے خلاف اِردگرد کے قبائل کواُبھار رہے تھے اور اب یہ دیکھ کر کہ عرب میں اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ وہ مسلمانوں کو تباہ کر سکیں یا مدینہ پر جا کر حملہ کر سکیں۔یہودیوں نے ایک طرف تو رومی حکومت کی جنوبی سرحد پر رہنے والے عرب قبائل کو جو مذہباً عیسائی تھے، اُکسانا شروع کیا اور دوسری طرف اپنے ان ہم مذہبوں کو جو عراق میں رہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چٹھیاں لکھنی شروع کیں تاکہ وہ کسریٰ کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکائیں۔میں یہ بھی اُوپر لکھ چکا ہوں کہ اِس شرارت کے نتیجہ میں کسریٰ مسلمانوں کے خلاف سخت بھڑک گیا تھا اور اُس