دیباچہ تفسیر القرآن — Page 296
میں کمانڈر تھا۔ہم نے ان کے پیٹ کاٹے اور اُن کے کان کاٹے، ان کے ناک کاٹے۔سوال: پھر قیصر نے پوچھا۔وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟ جواب: ابوسفیان نے کہا وہ کہتا ہے کہ ایک خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو اور ہمارے باپ دادا جن بتوں کی پوجا کرتے تھے وہ ان کی پوجا سے روکتا ہے اور ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم خدا کی عبادتیں کریں اور سچ بولا کریں اور بُرے اور گندے کاموں سے بچا کریں اور ہمیں کہتا ہے کہ کہ مروت اور وفائے عہد سے کام لیا کریں اور امانتوں کو ادا کیا کریں۔۳۳۰؎ قیصر روم کا نتیجہ کہ آنحضرتﷺ صادق نبی ہیں اِس پر قیصر نے کہا۔سنو میں نے تم سے یہ سوال کیا تھا کہ اس کا نسب کیسا ہے تو تم نے کہا وہ خاندانی لحاظ سے اچھا ہے اور انبیاء ہمیشہ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس سے پہلے کسی شخص نے ایسا دعویٰ کیا ہے تو تم نے کہا نہیں۔یہ سوال میں نے اس لئے کیا تھا کہ اگر قریب زمانہ میں اس سے پہلے کسی شخص نے ایسادعویٰ کیا ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ بھی اُس کی نقل کر رہا ہے۔اور پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس دعویٰ سے پہلے اس پر جھوٹ کا بھی الزام لگایا گیا ہے اور تم نے کہا نہیں تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص انسانوں کے متعلق جھوٹ نہیں بولتا وہ خدا تعالیٰ کے متعلق بھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیااس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا۔تو تم نے کہا نہیں۔تو میں نے سمجھ لیا کہ اس کے دعویٰ کی یہ وجہ نہیں کہ اس بہانہ سے اپنے باپ دادا کا ملک واپس لینا چاہتا ہے۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا جابر اور زبردست لوگ اس کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں یا کمزور اور مسکین طبع لوگ۔تو تم نے جواب دیا کہ کمزور اور مسکین طبع لوگ۔تومیں نے سوچا کہ تمام انبیاء کی جماعت میں اکثر مسکین طبع اور غریب ہی داخل ہوا کرتے ہیں نہ کہ جابر او رمتکبر لوگ۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں۔تو تم نے کہا وہ بڑھتے ہیں اور یہی حالت نبیوں کی جماعت کی ہوا کرتی ہے جب تک وہ کمال کو نہیں پہنچ جاتی اُس وقت تک وہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص اُس کے دین