دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 295

سوال: پھر اُس نے پوچھا کیا تم دعویٰ سے پہلے اُس پر جھوٹ کا الزام لگایا کرتے تھے؟ جواب: ابوسفیان نے کہا۔نہیں۔سوال: پھر اس نے پوچھا۔کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ جواب: ابوسفیان نے کہا۔نہیں۔سوال: پھر بادشاہ نے پوچھا۔اس کی عقل اور اس کی رائے کیسی ہوتی ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔ہم نے اس کی عقل اور رائے میں کبھی کوئی عیب نہیں دیکھا۔سوال: پھر قیصر نے پوچھا۔کیا بڑے بڑے جابر اور قوت والے لوگ اس کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں یا غریب اور مسکین لوگ؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔غریب اور مسکین اور نوجوان لوگ۔سوال: پھر اس نے پوچھا۔وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں؟ جواب: ابو سفیان نے جواب دیا۔بڑھتے چلے جاتے ہیں۔سوال: پھر قیصر نے پوچھا۔کیا اُن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اُس کے دین کو بُرا سمجھ کے مرتد ہوئے ہیں۔جواب: ابوسفیان نے کہا۔نہیں۔سوال: پھر اس نے پوچھا۔کیا اس نے کبھی اپنے عہد کو بھی توڑا ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔آج تک تو نہیں۔مگر اب ہم نے ایک نیا عہد باندھا ہے دیکھیں اب وہ اس کے متعلق کیا کرتا ہے۔سوال: پھر اس نے پوچھا۔کیا تمہارے اور اس کے درمیان کبھی جنگ بھی ہوئی ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔ہاں۔سوال: اِس پر بادشاہ نے پوچھا۔پھر اُن لڑائیوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔گھاٹ کے ڈولوں والا حال ہے۔کبھی ہمارے ہاتھ میں ڈول ہوتا ہے کبھی اس کے ہاتھ ڈول ہوتا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ بدر کی لڑائی ہوئی اور مَیں اس میں شامل نہیں تھا اس لئے وہ غالب آگیا تھا اور دوسری دفعہ اُحد میں لڑائی ہوئی اُس وقت