دیباچہ تفسیر القرآن — Page 291
اورجو شخص قریش کے ساتھ ملنا چاہے یا معاہدہ کرنا چاہے وہ بھی ایسا کر سکتا ہے۔اگر کوئی لڑکا جس کا باپ زندہ ہو یا ابھی چھوٹی عمر کا ہو وہ اپنے باپ یا متولی کی مرضی کے بغیر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جائے توا ُس کے باپ یا متولی کے پاس واپس کر دیا جائے گا لیکن اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے کوئی قریش کی طرف جائے تو اُسے واپس نہیں کیا جائے گا۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے جائیں گے لیکن اگلے سال محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اور ا ن کے ساتھی مکہ میں آ سکتے ہیں اور تین دن تک وہاں ٹھہر کر کعبہ کا طواف کر سکتے ہیں اس عرصہ میں قریش شہر سے باہر پہاڑی پر چلے جائیں گے۔لیکن یہ شرط ہو گی کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اُن کے ساتھی مکہ میں داخل ہوں تو اُن کے پاس کوئی ہتھیار نہ ہو سوائے اُس ہتھیار کے جوہر مسافر اپنے پاس رکھتا ہے یعنی نیام میں ڈالی ہوئی تلوار‘‘۔۳۲۵؎ اِس معاہدہ کے وقت دو عجیب باتیں ہوئیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرائط طے کرنے کے بعد معاہدہ لکھوانا شروع کیا تو آپ نے فرمایا ’’ خدا کے نام سے جو بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے‘‘۔سہیل نے اس پر اعتراض کیا اور کہا خدا کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ ’’ بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ‘‘ ہم نہیں جانتے کون ہے۔یہ معاہدہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہے اور اس میں دونوں کے مذاہب کا احترام ضروری ہے۔اس پر آپ نے اُس کی بات قبول کر لی اور صرف اتنا ہی لکھوایا کہ ’’ خد اکے نام پر ہم یہ معاہدہ کرتے ہیں‘‘۔پھر آپ نے یہ لکھوایا کہ یہ شرائط صلح مکہ والوں اور محمد رسول اللہ کے درمیان ہیں۔اس پر پھر سہیل نے اعتراض کیا اور کہا کہ اگر ہم آپ کو خدا کا رسول مانتے تو آپ کے ساتھ لڑتے کیوں؟ آپ نے اُس کے اس اعتراض کو بھی قبول کر لیا اور بجائے محمد رسول اللہ کے ’’ محمد بن عبداللہ‘‘ لکھوایا۔چونکہ آپ مکہ والوں کی ہر بات مانتے چلے جاتے تھے، صحابہؓ کے دل میں بے انتہاء رنج اور افسوس پیدا ہوا اور غصہ سے اُن کا خون کھولنے لگا یہاں تک کہ حضرت عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! کیا ہم سچے نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ! پھر اُنہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! کیا آپ کو خدا نے یہ نہیں بتایا تھا