دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 287

پندرہ سَو صحابہؓ کے ساتھ آنحضرتﷺکی مکہ کو روانگی اِس عرصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رئویا دیکھی جس کا قرآن کریم میں ان الفاظ میں ذکر آتا ہے۔ ۳۲۴؎ یعنی ضرور تم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہوگے۔تم میںسے بعضوں کے سر منڈے ہوئے ہوں گے اور بعضوں کے بال کٹے ہوئے ہوں گے (حج کے وقت سر منڈانا اور بال کٹانا ضروری ہوتا ہے) تم کسی سے نہ ڈر رہے ہو گے۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے۔اِس وجہ سے اُس نے اِس خواب کے پورا ہونے سے پہلے ایک اور فتح مقرر کر دی ہے جو خواب والی فتح کا پیش خیمہ ہو گی۔اِس رئویا میں درحقیقت صلح اور امن کے ساتھ مکہ کو فتح کرنے کی خبر دی گئی تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر یہی سمجھی کہ شاید ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور چونکہ اِس غلط فہمی سے اس قسم کی بنیاد پڑنے والی تھی اللہ تعالیٰ نے اِس غلطی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ نہ کیا۔چنانچہ آپؐ نے اپنے صحابہ میں اِس بات کا اعلان کیا اور اُنہیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی تلقین کی۔مگر فرمایا ہم صرف طواف کی نیت سے جارہے ہیں کسی قسم کا مظاہرہ یا کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو دشمن کی ناراضگی کا موجب ہو۔چنانچہ آخر فروری۶۲۸ء میں پندرہ سَو زائرین کے ساتھ آپ مکہ کی طرف روانہ ہوئے( ایک سال بعدکل پندرہ سَو آدمیوں کا آپ کے ساتھ جانا بتاتاہے کہ اس سے ایک سال پہلے جنگ احزاب کے موقع پر اس تعداد سے کم ہی سپاہی ہوں گے۔کیو نکہ ایک سال میں مسلمان بڑھے تھے گھٹے نہ تھے۔پس جنگ احزاب میں لڑنے والوں کی تعداد جن مؤرخوں نے تین ہزار لکھی ہے یہ غلطی کی ہے۔درست یہی ہے کہ اُس وقت بارہ سَو سپاہی تھے)حج کے قافلہ کے آگے بیس سوار کچھ فاصلہ پر اس لئے چلتے تھے تاکہ اگر دشمن مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہے تو اُن کو وقت پر اطلاع مل جائے۔جب مکہ والوں کو آپ کے اِس ارادہ کی اطلاع ہوئی تو باوجود اس کے کہ اُن