دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 265

صحابہؓ کے ساتھ یہود کے قلعوں کی طرف جار ہے تھے چونکہ یہود گندی گالیاں دے رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور بیٹیوں کے متعلق بھی ناپاک کلمات بول رہے تھے حضرت علیؓ نے اِس خیال سے کہ آپ کو اُن کلمات کے سننے سے تکلیف ہوگی، عرض کیا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم لوگ اس لڑائی کے لئے کافی ہیں، آپ واپس تشریف لے جائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ وہ گالیاں دے رہے ہیں اور تم یہ نہیں چاہتے کہ میرے کان میں وہ گالیاں پڑیں۔حضرت علیؓ نے عرض کیا ہاں یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! بات تو یہی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا ہوا اگر وہ گالیاں دیتے ہیں، موسیٰ نبی تو اِن کا اپنا تھا اُس کواِس سے بھی زیادہ اِنہوں نے تکلیفیں پہنچائی تھیں۔یہ کہتے ہوئے آپ یہود کے قلعوں کی طرف چلے گئے۔مگر یہود دروازے بند کر کے قلعہ بند ہو گئے اور مسلمانوں کے ساتھ لڑائی شروع کر دی۔حتی کہ اُن کی عورتیں بھی لڑائی میں شریک ہوئیں۔چانچہ قلعہ کی دیوار کے نیچے کچھ مسلمان بیٹھے تھے کہ ایک یہودی عورت نے اُوپرسے پتھر پھینک کر ایک مسلمان کو مار دیا لیکن کچھ دن کے محاصرہ کے بعد یہود نے یہ محسوس کر لیا کہ وہ لمبا مقابلہ نہیں کر سکتے۔تب اُن کے سرداروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش کی کہ وہ ابو لبابہ انصاری کو جو اُن کے دوست اور اوس قبیلہ کے سردار تھے اُن کے پاس بھجوائیں تاکہ وہ اُن سے مشورہ کر سکیں۔آپ نے ابولبابہ کو بجھوا دیا۔ان سے یہود نے یہ مشورہ پوچھا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس مطالبہ کو کہ فیصلہ میرے سپرد کرتے ہوئے تم ہتھیار پھینک دو، ہم یہ مان لیں؟ ابو لبابہ نے منہ سے تو کہا ہاں! لیکن اپنے گلے پر اِس طرح ہاتھ پھیرا جس طرح قتل کی علامت ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت تک اپنا کوئی فیصلہ ظاہر نہیں کیا تھا مگر ابو لبابہ نے اپنے دل میں یہ سمجھتے ہوئے کہ اُ ن کے اِس جرم کی سزا سوائے قتل کے اور کیا ہوگی بغیر سوچے سمجھے اشارہ کے ساتھ اُن سے ایک بات کہہ دی جو آخر اُن کی تباہی کا موجب ہوئی۔چنانچہ یہود نے کہہ دیا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ مان لیتے تو دوسرے یہودی قبائل کی طرح اُن کو زیادہ سے زیادہ یہی سزا دی جاتی کہ اُن کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا جاتا، مگر اُن کی بد قسمتی تھی اُنہوںنے کہا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ماننے کے لئے تیار نہیں، بلکہ ہم اپنے