دیباچہ تفسیر القرآن — Page 260
اُن لوگوں کا تو خیال یہ تھا کہ شاید جس طرح ہم نے مسلمان رئوساء بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ناک اور کان اُحد کی جنگ میں کاٹ دئیے تھے اِسی طرح شاید آج مسلمان ہمارے اس رئیس کے ناک، کان کاٹ کر ہماری قوم کی بے عزتی کریں گے۔مگر اسلام کے احکام تو بالکل اَور قسم کے ہیں۔اسلام لاشوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا۔چنانچہ کفّار کا پیغام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا۔اِس لاش کو ہم نے کیا کرنا ہے یہ لاش ہمارے کس کام کی ہے کہ اس کے بدلہ ہم تم سے کوئی قیمت لیں۔اپنی لاش بڑے شوق سے اُٹھا کر لے جائو۔ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں۔۲۸۸؎ اتحادی فوجوں کے مسلمانوں پر حملے اُن دنوں جس جوش کے ساتھ کفار حملہ کرتے تھے میوؔر اُس کا اِن الفاظ میں ذکر کرتا ہے۔’’ دوسرے دن محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) نے دیکھا کہ اتحادی فوجیں متفقہ طور پر اُن پر حملے کرنے کے لئے تیار کھڑی ہیں، اُن کے حملوں کو روکنے کے لئے بہت زیادہ ہوشیار اور ہر وقت چوکس رہنا ضروری تھا۔کبھی وہ متفقہ حملہ کرتے، کبھی دستوں میں تقسیم ہو کرمختلف چوکیوں پر حملہ کرتے اور جب کسی چوکی کو کمزور پاتے تو اپنی ساری فوج اُس جگہ پر جمع کر لیتے اور بے پناہ تیر ا ندازی کے پردہ میں وہ خندق پار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔یکے بعد دیگرے خالد اور عمرو جیسے مشہور لیڈروں کی ماتحتی میں فوج بہادرانہ حملہ شہر میں داخل ہونے کے لئے کرتی۔ایک دفعہ تو خود محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا خیمہ دشمن کی زد میں آگیا لیکن مسلمانوں کے فدائیانہ مقابلہ اور تیروں کی بوچھاڑ نے حملہ آوروں کو پیچھے دھکیل دیا۔یہ حملہ سارا دن جاری رہا اور چونکہ مسلمانوں کی فوج ساری مل کر بمشکل خندق کی حفاظت کر سکتی تھی کوئی آرام کا وقفہ مسلمانوں کو نہ ملا۔رات پڑ گئی مگر رات کو بھی خالد کے ماتحت دستوں نے لڑائی کو جاری رکھا اور مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ رات کو بھی اپنی چوکیوں کی حفاظت پورے طور پر کریں۔لیکن دشمن کی یہ تمام کوششیں بیکار گئیں۔خندق کو کبھی بھی دشمن کے کافی سپاہی پار نہ کر سکے‘‘۔۲۸۹؎ لیکن باوجود اس کے کہ جنگ دو روز سے ہو رہی تھی سپاہی ایک دوسرے کے ساتھ گتھ