دیباچہ تفسیر القرآن — Page 259
جھوٹے وعدے کئے تھے‘‘ اور یاد کرو جب اُن میں سے ایک گروہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اُنہوں نے مؤمنوں سے بھی جا جا کر کہنا شروع کر دیا کہ اب کوئی چوکی یا قلعہ تمہیں بچا نہیں سکتا پس یہاں سے بھاگ جائو۔اور مؤمنوں کی نسبت فرماتا ہے۔۲۸۷؎ یعنی منافقوں اور کمزور ایمان والوں کے مقابلہ میں مؤمنوں کا یہ حال تھا کہ جب اُنہوں نے دشمن کا یہ لشکر جرار دیکھا تو اُنہوںنے کہا کہ اس لشکر کے متعلق توا للہ اور اس کے رسول نے پہلے سے ہی ہم کو خبر دے چھوڑی تھی۔اس لشکر کا حملہ تو اللہ اوراس کے رسول کی صداقت کا ثبوت ہے اور یہ لشکر جرار اُن کے ایمان کو ہلا نہ سکا۔بلکہ ایمان اور طاقت میں مسلمان اور بھی زیادہ ہو گئے۔مؤمنوں کا تو یہ حال ہے کہ اُنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اُس کو وہ پورے طور پر نبھا رہے ہیں چنانچہ کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں دے کر اپنے مقصد کو حاصل کر لیا اور بعض ایسے ہیں کہ گو اُن کو جانیں دینے کا موقع تو نہیں ملا مگر وہ ہر وقت اس بات کی انتظار میں رہتے ہیں کہ اُن کو خدا کے رستہ میں جان دینے کا موقع ملے تو وہ جان دے دیں اور شروع دن سے اُنہوں نے خدا تعالیٰ سے جو عہد باندھا تھا اُس کو نبھا رہے ہیں۔اِسلام میں مردہ لاش کا احترام دشمن جو خندق پر حملہ کر رہا تھا بعض وقت وہ اُس کے پھاندنے میں کامیاب بھی ہو جاتا تھا، چنانچہ ایک دن کفّار کے بعض بڑے بڑے جرنیل خندق پھاند کر دوسری طرف آنے میں کامیاب ہو گئے۔لیکن مسلمانوں نے ایسا جان توڑحملہ کیا کہ سوائے واپس جانے کے اُن کے لئے کوئی چارہ نہ رہا۔چنانچہ اُس وقت خندق پھاندتے ہوئے کفّار کا ایک بہت بڑا رئیس نوفل نامی مارا گیا۔یہ اتنا بڑا رئیس تھا کہ کفّار نے یہ خیال کیا کہ اگر اس کی لاش کی ہتک ہوئی تو عرب میں ہمارے لئے منہ دکھانے کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔چنانچہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر آپ اِس کی لاش واپس کر دیں تو وہ دس ہزار درہم آپ کو دینے کے لئے تیار ہیں۔