دیباچہ تفسیر القرآن — Page 253
روایتوں میں تین ہزار کا ذکر آیا ہے وہ خندق کھودنے کے وقت کی تعداد بتاتی ہیں جس میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔اور جیسا کہ میں نے دوسری جنگوں پر قیاس کر کے نتیجہ نکالا ہے کچھ عورتیں بھی تھیں۔لیکن بارہ سَو کی تعداد اُس وقت کی ہے جب جنگ شروع ہوگئی اور صرف بالغ مرد رہ گئے۔اب رہا یہ سوال کہ تیسری روایت جو سات سَو سپاہی بتاتی ہے کیا وہ بھی درست ہے؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ابن اسحق مؤرخ نے بیان کی ہے جو بہت معتبر مؤرخ ہے اور ابن حزم جیسے زبردست عالم نے اِس کی بڑے زور سے تصدیق کی ہے۔پس اس کے بارہ میں بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔اور اس کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ تاریخ کی مزید چھان بین سے معلوم ہوتا ہے کہ جب جنگ کے دوران میں بنو قریظہ کفّار کے لشکر سے مل گئے اور اُنہوں نے یہ ارادہ کیا کہ مدینہ پر اچانک حملہ کر دیں اور اُن کی نیتوں کا راز فاش ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی اس جہت کی حفاظت بھی ضروری سمجھی جس سمت بنو قریظہ تھے اور جو سمت پہلے اس خیال سے بے حفاظت چھوڑ دی گئی تھی کہ بنو قریظہ ہمارے اتحادی ہیں یہ دشمن کو اِس طرف سے نہ آنے دیں گے۔چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بنو قریظہ کے غدر کا حال معلوم ہوا تو چونکہ مستورات بنو قریظہ کے اعتبار پر اس علاقہ میں رکھی گئی تھیں جدھر بنو قریظہ کے قلعے تھے اور وہ بغیر حفاظت تھیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب اُن کی حفاظت ضروری سمجھی اور دو لشکر مسلمانوں کے تیار کر کے عورتوں کے ٹھہرنے کے دونوں حصوں پر مقرر فرمائے۔مسلمہ ابن اسلمؓ کو دو سَو صحابہ دے کر ایک جگہ مقرر کیا اور زید بن حارثہؓ کو تین سَو صحابہ دے کر دوسری جگہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہتے رہا کریں تا معلوم ہوتا رہے کہ عورتیں محفوظ ہیں۔اِس روایت سے ہماری یہ مشکل کہ سات سَو سپاہی جنگ خندق میں ابن اسحاق نے کیوں بتائے ہیں حل ہو جاتی ہے۔کیونکہ بارہ سَو سپاہیوں میں سے جب پانچ سَو سپاہی عورتوں کی حفاظت کے لئے بھجوا دیئے گئے تو بارہ سَو کا لشکر صرف سات سَو رہ گیا اور اس طرح جنگ خندق کے سپاہیوں کی تعداد کے متعلق جو شدید اختلاف تاریخوں میں پایا جاتا ہے وہ حل ہو گیا۔