دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 231

ہے۔نتیجہ یہ ہو ا کہ مسلمان صرف سات سَو رہ گئے جو تعداد میں کفّار کی تعداد سے چوتھے حصہ سے بھی کم تھے اور سامانوں کے لحاظ سے اور بھی کمزور۔کیونکہ کفّار میں سات سَو زِرہ پوش تھا اور مسلمانوں میں صر ف ایک زِرہ پوش۔اور کفّار میں دو سَو گھوڑ سوا رتھا مگر مسلمانوں کے پا س دو گھوڑے تھے۔آخر آپ اُحد پر پہنچے۔وہاں پہنچ کر آپ نے ایک پہاڑی درہ کی حفاظت کے لئے پچاس سپاہی مقررکئے اور سپاہیوں کے افسر کو تاکید کی کہ وہ درہ اتنا ضروری ہے کہ خواہ ہم مارے جائیں یا جیت جائیں تم اِس جگہ سے نہ ہلنا۔۲۶۰؎ اِس کے بعد آپ بقیہ ساڑھے چھ سَو آدمی لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے جو اَب دشمن کی تعداد سے قریباً پانچواں حصہ تھے۔لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے تھوڑی ہی دیر میں ساڑھے چھ سَو مسلمانوں کے مقابلہ میں تین ہزار مکہ کا تجربہ کار سپاہی سر پر پائوں رکھ کر بھاگا۔فتح مبدَّل بہ شکست مسلمانوں نے اُن کا تعاقب شروع کیا، تو ان لوگوں نے جو پشت کے درّہ کی حفاظت کے لئے کھڑے تھے اُنہوں نے اپنے افسر سے کہا اب تو دشمن کو شکست ہو چکی ہے اب ہمیں بھی جہاد کاثواب لینے دیا جائے۔افسر نے اُن کواِس بات سے روکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد دلائی مگر اُنہوں نے کہا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا صرف تاکید کے لئے فرمایاتھا ورنہ آپ کی مراد یہ تو نہیں ہو سکتی تھی کہ دشمن بھاگ بھی جائے تو یہاں کھڑے رہو۔یہ کہہ کر اُنہوں نے درہ چھوڑ دیا اور میدانِ جنگ میں کود پڑے۔بھاگتے ہوئے لشکر میں سے خالد بن ولید کی جو بعد میں اِسلام کے بڑے بھاری جرنیل ثابت ہوئے نظر خالی درّہ پر پڑی جہاں صرف چند آدمی اپنے افسر کے ساتھ کھڑے تھے۔خالدؓ نے کفّار کے لشکر کے دوسرے جرنیل عمرو ابن العاص کو آواز دی اور کہا۔ذرا پیچھے پہاڑی درّہ پر نگاہ ڈالو۔عمرو بن العاص نے جب درہ پر نگاہ ڈالی تو سمجھا کہ عمر کا بہترین موقع مجھے حاصل ہو رہا ہے دونوں جرنیلوں نے اپنے بھاگتے ہوئے دوستوں کوسنبھالا اور اِسلامی لشکر کا بازو کاٹتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔چند مسلمان جو وہاں درّہ کی حفاظت کے لئے کھڑے رہ گئے تھے، اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے پشت پر سے اِسلامی لشکر پر آ پڑے۔اُن کے فاتحانہ نعروں کو سن کر سامنے کا بھاگتا ہوا بقیہ لشکر بھی میدان جنگ کی طرف لوٹ پڑا۔یہ