دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 228

کرتے تھے، اُنہیں مجبور کر کے مکہ والے اپنے ساتھ لڑائی کے لئے لے آئے تھے۔اِسی طرح قیدیوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی کے خاوند ابوالعاص بھی تھے۔مارے جانے والوں میں ابوجہل مکہ کی فوج کا کمانڈر اور اِسلام کا سب سے بڑا دشمن بھی شامل تھا۔بدر کے قیدی اِس فتح پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش بھی تھے کہ وہ پیشگوئیاں جو متواتر چودہ سال سے آپ کے ذریعہ سے شائع کی جا رہی تھیں اور وہ پیشگوئیاں جو پہلے انبیاء اِس دن کے متعلق کر چکے تھے پوری ہو گئیں، لیکن مکہ کے مخالفوں کاعبرتناک انجام بھی آپ کی نظروں کے سامنے تھا۔آپ کی جگہ پر کوئی اور شخص ہوتا تو خوشی سے اُچھلتا اور کودتا لیکن جب آپ کے سامنے سے مکہ کے قیدی رسیوں میں بندھے ہوئے گزرے تو آپ اور آپ کے باوفا ساتھی ابوبکرؓ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے۔اُس وقت حضرت عمرؓ جو بعد میں آپ کے دوسرے خلیفہ ہوئے سامنے سے آئے تو اُنہیں حیرت ہوئی کہ اِس فتح اور خوشی کے وقت میں آپ کیوں رو رہے ہیں اورانہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! مجھے بھی بتائیے کہ اِس وقت رونے کا کیا باعث ہے؟ اگر وہ بات میرے لئے بھی رونے کاموجب ہے تو میں بھی روئوں گا، نہیں تو کم سے کم میں آپ کے غم میں شریک ہونے کے لئے رونی صورت ہی بنا لوں گا۔آپ نے فرمایا دیکھتے نہیں خد ا تعالیٰ کی نافرمانی سے آج مکہ والوں کی کیا حالت ہو رہی ہے۔۲۵۵؎ آپ کے انصاف اور آپ کی عدالت کا جس کی خبر یسعیاہ نے بار بار اپنی پیشگوئیوں میں دی ہے اِس موقع پر ایک لطیف ثبوت ملا۔مدینہ کی طرف واپس آتے ہوئے رات کو جب آپ سونے کے لئے لیٹے تو صحابہؓ نے دیکھا کہ آپ کو نیند نہیں آتی۔آخر اُنہوں نے سوچ کر یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کے چچا عباس ؓ چونکہ رسیوں میں جکڑ ے ہونے کی وجہ سے سو نہیں سکتے اور اُ ن کے کراہنے کی آوازیں آتی ہیں اِس لئے اُن کی تکلیف کا خیال کر کے آپ کو نیند نہیں آتی۔اُنہوں نے آپس میں مشورہ کر کے حضرت عباسؓ کے بندھنوں کو ڈھیلا کر دیا۔حضرت عباسؓ سو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نیند آگئی۔تھوڑی دیر کے بعد یکدم گھبرا کے آپ کی آنکھ کھلی اور آپ نے پوچھا عباسؓ خاموش کیوں ہیں؟ اُن کے کراہنے کی آوازاب کیو ں نہیں آتی؟ آپ کے دل میں یہ وہم پید اہو ا کہ شاید تکلیف کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔صحابہؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!