دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 218

تمہارے شامی راستہ پرامن نہیں مل سکے گا۔اُنہی دنوں میں ولید بن مغیرہ مکہ کا ایک بہت بڑا رئیس بیمار ہوا اور اُس نے محسوس کیا کہ اُس کی موت قریب ہے۔ایک دن مکہ کے بڑے بڑے رئیس اُس کے پاس بیٹھے تھے تو وہ بے اختیار ہو کر رونے لگ گیا۔مکہ کے رئوساء حیران ہوئے اور اُس سے پوچھا کہ آخر آپ روتے کیوں ہیں؟ ولید نے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ میں موت کے ڈر سے روتا ہوں وَاللّٰہِ! ایسا ہر گز نہیں، مجھے تو یہ غم ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین پھیل جائے اور مکہ بھی اِس کے قبضہ میں چلا جائے۔ابوسفیان نے جواب میں کہا۔اِس بات کا غم نہ کرو جب تک ہم زندہ ہیں ایسا نہیں ہوگا ہم اِس بات کے ضامن ہیں۔اِن تمام واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مکہ کے لوگوں کے مظالم میں جو وقفہ ہوا تھا وہ عارضی تھا۔دوبارہ قوم کو اُکسایا جا ررہا تھا۔مرنے والے رئوساء موت کے بستر پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی قسمیں لے رہے تھے۔مدینہ کے لوگوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائی پر آمادہ کیا جار ہا تھا اوراُن کے انکار پر دھمکیاں دی جار ہی تھیں کہ مکہ والے اور اُن کے حلیف قبائل لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کریں گے او رمدینہ کے مردوں کو ماردیں گے اورعورتوں کو غلام بنا لیں گے۔آنحضرت ﷺ کی مدافعانہ تدابیر پس اِن حالات میں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں خاموش بیٹھے رہتے اور مدینہکی حفاظت کا کوئی سامان نہ کرتے تو یقینا آپ پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عاید ہوتی۔پس آپ نے چھوٹے چھوٹے وفدوں کی صورت میں اپنے صحابہ کو مکہ کے اِردگرد بجھوانا شروع کیا تاکہ مکہ والوں کی کارروائیوں کا آپ کو علم ہوتا رہے۔بعض دفعہ اِن لوگوں کی مکہ کے قافلوں یا مکہ کی بعض جماعتوں سے مٹھ بھیڑ بھی ہوجاتی اور ایک دوسرے کو دیکھ لینے کے بعد لڑائی تک بھی نوبت پہنچ جاتی۔مسیحی مصنف لکھتے ہیں کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چھیڑ چھاڑ تھی۔کیا مکہ میں تیرہ سال تک جو مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اور مدینہ کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنے کی جو کوشش کی گئی اور پھر مدینہ پر حملہ کرنے کی جو دھمکیاں دی گئیں، اِن واقعات کی موجودگی میں آپ کا خبردار رہنے کے لئے وفود بھجوانا کیا چھیڑ چھاڑ کہلا سکتا ہے؟ کونسا